قرآن اور عصرِ جدید
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۳۴
وہ میرا دشمن ہے۔ قدیم زمانہ زراعت (agriculture) اور کنگ شپ (kingship) کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں ہر ایک کا انٹرسٹ الگ ہوتا تھا۔ گویا کہ وہ زمانہ age of differing interest کا زمانہ تھا۔ اُس زمانہ میں باہمی تعلقات کا کلچر وجود میں نہیں آیا تھا۔ لوگ یا تو اپنے اپنے ذاتی دائرے میں رہتے تھے، یا میدان جنگ (battlefield) میں ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ گویا کہ اُس زمانہ میں جوراج ثنائیت (dichotomy) تھی، وہ دوست اور دشمن کی ڈائیکاٹومی تھی۔ یہ ثنائی کلچر مستقل طور پر دشمنی اور جنگ کا سبب بنا ہوا تھا۔ اس ثنائی کلچر کی بنا پر دین حق کی اشاعت عملاً ممکن بن گئی تھی۔ قدیم زمانہ میں جبر مذہبی جبر (religious persecution) رائج ہوا، اس کا سبب یہی تھا۔ اللہ تعالیٰ کا منصوبہ یہ تھا کہ اس ثنائیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) ۔ ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ اس آیت میں خدا کی جس اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ساری دنیا میں حکومت الہیہ (kingdom of God) قائم کی جائے۔ اس آیت میں سیاسی نظریہ کو نہیں بتایا گیا تھا، بلکہ اس میں ایک انسانی نظریہ کو بتایا گیا تھا۔ اور وہ یہ کہ دنیا میں ایک عالمی اصول (universal norm) کے طور پر دوست اور دشمن کی ثنائیت (dichotomy) ختم ہو جائے، اور ایک اور ثنائیت رائج ہو جائے_ یعنی دوست اور مؤید کی ثنائیت۔ یہی وہ تاریخی حقیقت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللہ بے شک اس دین کی مدد ایسے اقوام کے ذریعہ کرے گا، جو اہل ایمان میں سے نہ ہوں گے۔
یہ نظام تائید (order of mutual support) دنیا میں کس طرح آئے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نظام عملاً جمہوریت (democracy) اور صنعتی تہذیب (industrial civilization) کے ذریعہ دنیا میں آچکا ہے۔ اس سیاسی اور صنعتی نظام کے بعد دنیا میں جو دور آیا ہے، وہ تمام تر باہمی مفاد (mutual interest) پر قائم ہے۔ پچھلے زمانہ میں باہمی مفاد کی حیثیت
‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues