Al-Risala · July 2017 · page 41

برطانیہ کی مثال

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۴۱

لیا۔ انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں ماضی کی عظمت سے باہر نکلنا ہے، اور حالات کے مطابق اپنے قومی تعمیر کی ری پلاننگ کرنا ہے۔ چنانچہ لارڈ ڈاٹلی کی لیڈرشپ میں انھوں نے ایسا ہی کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برطانیہ کے لوگ اپنی قومی ترقی کو نئی بنیاد پر قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی قسم کی سیاسی صورت حال موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آئی ہے۔ مسلمانوں نے بعد کے زمانے میں دنیا کے بڑے رقبے میں اپنا سیاسی ایمپائر قائم کر لیا۔ پھر مسلم ملت میں زوال کا دور آیا۔ رفتہ رفتہ ان کا یہ حال ہوا کہ ان کی سیاسی عظمت (political glory) کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کا سبب تمام تر داخلی تھا، مگر مسلمانوں نے اس کو عملی طور پر قبول (accept) نہیں کیا۔ وہ اس کی ذمہ داری دوسروں کے اوپر ڈالتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں عمومی طور پر منفی سوچ (negative thinking) آگئی۔ وہ اپنی سابقہ پولیٹکل عظمت کو واپس لانے کی کوششیں کرنے لگے۔ مگر یہ ایک غیر حقیقی منصوبہ تھا، جو آخری حد تک ناکام رہا۔

مسلمانوں کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ ماضی میں جینا مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور حال کے اوپر دوبارہ اپنے قومی عمل کی ری پلاننگ کریں۔ قدیم زمانے میں مسلم ایمپائر جن حالات کے تحت قائم ہوئے تھے، وہ حالات اب ختم ہو چکے ہیں۔ اب نہ مسلمانوں کے لیے اور نہ کسی اور قوم کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ قدیم طرز کا پولیٹکل ایمپائر دنیا میں قائم کریں۔ اس معاملے میں مسلمان اگر حقیقت پسندانہ انداز میں سوچیں، تو وہ نئے حالات کے امکان کو دریافت کر لیں گے۔ اس کے بعد ان کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی حیثیت کو دوبارہ نئے عنوان سے حاصل کر لیں۔ کسی قوم کے لیے عروج و زوال کا واقعہ سبق کے لیے ہوتا ہے۔ برطانیہ نے اپنے زوال کے واقعہ کو سبق کے معنی میں لیا، اس بنا پر ان کو بہت جلد معلوم ہو گیا کہ یہ وقت ان کے لیے ری پلاننگ کا ہے۔ مسلمان عملاً اس راز سے بے خبر رہے، اس لیے زوال کے بعد اپنی قومی ترقی کی ری پلاننگ کے لیے وہ حقیقت پسندانہ منصوبہ بنانے میں ناکام رہے۔ یہی سبب ہے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی ناکامی کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page