Al-Risala · July 2017 · page 42

جرمنی کی مثال

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۴۲

جرمنی کی مثال

جرمنی، اڈولف ہٹلر کی قیادت میں دوسری عالمی جنگ کا سب سے بڑا پارٹنر تھا۔ یہ جنگ 1939 سے 1945 تک جاری رہی۔ اس جنگ میں پچاس ملین سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔ دوسرے نقصانات اس سے بھی زیادہ ہیں۔ لیکن جنگ کا خاتمہ اس طرح ہوا کہ جرمنی نے اپنے ملک کا ایک تہائی حصہ (ایسٹ جرمنی) کھودیا تھا۔ دوسرے عظیم نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔ جنگ کے خاتمے کے بعد جرمنی نے ری پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا۔ پہلی پلاننگ کے زمانے میں ہٹلر جرمنی کا رہنما تھا تو دوسری پلاننگ کے زمانے میں جرمنی نے اپنے مشہور اسٹیٹس مین (statesman) بسمارک (Otto von Bismarck [1815-1898]) کی فکر کو اپنا رہنما بنایا۔ بسمارک نے کہا تھا کہ سیاست ممکنات کا فن ہے:

Politics is the art of the possible. (St. Petersburgische Zeitung, Aug 11, 1867 [www.shmoop.com])

جرمنی کے اہل دماغ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ دریافت کیا کہ ان کی پہلی پلاننگ ناممکن (impossible) پر مبنی تھی۔ اب انھیں ممکن (possible) کی بنیاد پر نیا منصوبہ بنانا چاہیے۔ بعد از جنگ کے زمانے میں جرمنی نے اسی اصول پر کام کیا۔ اس نے اپنی توجہ جنگ سے ہٹا کر پر امن ترقی پر مرتکز کر دیا۔ خصوصاً سائنس اور صنعت کے میدان میں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جرمنی نے پہلے سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرلی۔ خاص طور پر پرنٹنگ مشین کے معاملے میں اس نے ساری دنیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

جرمنی کی ری پلاننگ کامیاب رہی۔ جرمنی ربع صدی کے عرصے میں یورپ کا نمبر ایک صنعتی ملک بن گیا۔ اب اس کی اقتصادیات پورے یورپ میں سب سے زیادہ مستحکم اقتصادیات کی حیثیت رکھتی ہے۔ جرمنی کی یہ ترقی ایک لفظ میں ری پلاننگ کے اصول کو اختیار کرنے سے حاصل ہوئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page