جرمنی کی مثال
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۴۳
دوسری عالمی جنگ میں جرمنی نے اپنے ملک کے ایک بڑے رقبے کو کھودیا تھا۔ لیکن جنگ کے بعد مبنی بر امن ری پلاننگ کے نتیجے میں جرمنی نے دوبارہ اپنے کھوئے ہوئے حصہ کو حاصل کرلیا۔ یہ معجزاتی واقعہ 1990 میں پیش آیا۔
دوسری عالمی جنگ سے پہلے جرمنی کا نشانہ ہٹلر کی قیادت میں یہ تھا کہ جرمنی پورے یورپ کا پولیٹکل ماسٹر(political master) بنے۔ اس نشانہ میں جرمنی کو مکمل ناکامی ہوئی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی نے یہ قابل عمل نشانہ بنایا کہ وہ جرمنی کے صرف باقیماندہ حصہ(remnant part of Germany) کو پرامن انداز میں ڈیولپ کرے۔ جرمنی کا پہلا نشانہ مکمل طور پر ناکام ہوا تھا، لیکن جرمنی کا دوسرا نشانہ ری پلاننگ کے بعد مکمل طور پر کامیاب رہا۔ جرمنی کے اس تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے میں زمینی علاقہ (territory) کی اہمیت اضافی (relative) بن چکی ہے۔ آدمی کے پاس اگر چھوٹا علاقہ ہو، تب بھی وہ اعلیٰ منصوبہ بندی کے ذریعہ بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ اعلیٰ منصوبہ بندی میں دو چیزوں کی خصوصی اہمیت ہے۔ ایک ہے بہتر کمیونی کیشن (communication)، اور دوسری ہے بہتر تنظیم (organization)۔
جدید جرمنی نے صرف یہ نہیں کیا ہے کہ اس نے خود کو اعلیٰ ترقی یافتہ ملک بنایا ہے۔ اسی کے ساتھ اس نے یہ بھی کیا ہے کہ دنیا کے سامنے ایک ماڈل پیش کیا ہے۔ اس بات کا ماڈل پیش کیا ہے کہ کس طرح نقصان کے باوجود دوبارہ بڑی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس سے مختلف مثال کچھ مسلم ملکوں کی ہے۔ وہ اپنے خیال کے مطابق اپنے کھوئے ہوئے علاقے کی بازیابی کے لیے لمبی مدت سے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ مگر انھیں کوئی بھی مثبت کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ان کو چاہیے کہ وہ جرمنی کی مثال سے سبق لیں، اور اپنے ملے ہوئے علاقے کی بنیاد پر حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کریں، اور جدید امکانات کو استعمال کرتے ہوئے، دوبارہ بڑی کامیابی حاصل کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues