Al-Risala · July 2017 · page 48

غلط تقابل

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۴۸

غلط تقابل

ایک صاحب نے یہ سوال کیا ہے کہ کچھ مسلمانوں کو اگر کہا جائے کہ آج کل مسلمان بہت زیادہ انسانوں کے قتل عام میں ملوث ہیں، تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ عالمی جنگوں میں بے شمار آدمی قتل کیے گیے، ہٹلر نے ہزاروں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، وغیرہ۔ یہ کہہ کر گویا وہ مسلمانوں کے ہاتھوں ہونے والے قتل کا جواز دیتے ہیں۔ مولانا اس میں مغالطہ کیا ہے، واضح کریں۔ (ایک قاری الرساله، دهلی)

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک غلط تقابل (wrong comparison) ہے۔ اس معاملے میں دیکھنے کی اصل بات یہ ہے کہ فرسٹ ورلڈ وار اور سیکنڈ ورلڈ وار میں جو قو میں شریک تھیں، انھوں نے جنگوں کے تجربے کے بعد کیا کیا۔ اس معاملے میں ان کا آخری نمونہ قابل اعتبار ہے، نہ کہ درمیان کا نمونہ۔

واقعات بتاتے ہیں کہ جو قو میں فرسٹ ورلڈ وار اور سیکنڈ ورلڈ وار میں شامل تھیں، تجربے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ ان جنگوں میں انھوں نے صرف نقصان اٹھایا، جنگ کا طریقہ ان کے لیے پورے معنوں میں کاؤنٹر پروڈکٹیو ثابت ہوا۔ اس تجربے کے بعد ان قوموں کے قائدین نے دوبارہ غور کیا۔ انھوں نے پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لیا۔ اس کے بعد حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے، انھوں نے وہ طریقہ اختیار کیا، جس کوری پلاننگ کا طریقہ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا، اور مکمل معنوں میں امن کا طریقہ اختیار کر لیا۔ برطانیہ نے یہ کیا کہ اپنی عظیم سلطنت (empire) کو خود اپنے اختیار سے ختم کر دیا، اور اپنی سلطنت کو صرف برطانیہ تک محدود کر لیا۔ فرانس نے اپنی افریقی مقبوضات کو یک طرفہ طور پر چھوڑ دیا۔ جرمنی نے یہ کیا کہ ایسٹ جرمنی کو چھوڑ کر ویسٹ جرمنی کی تعمیر و ترقی میں لگ گیے۔ جاپان نے مکمل طور پر جنگ اور تشدد کا طریقہ چھوڑ دیا، اور جاپان کی پر امن ترقی میں مصروف ہو گیے، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page