غلط تقابل
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۴۹
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر ایسا ہوا کہ انھوں نے ہر قسم کی قربانی کے باوجود صرف کھویا، ان کو کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔ اب حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ مسلمان بحیثیت مجموعی یوٹرن (U-Turn) لیں۔ وہ جنگ اور تشدد کے طریقہ کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور پرامن انداز اختیار کرتے ہوئے، اپنی تعمیر و ترقی میں لگ جائیں۔ یہی تاریخ کا تقاضا ہے، اور یہی اسلام کا تقاضا بھی۔
نصیحت کا اصول یہ ہے کہ دوسروں کے عمل سے تجربہ (experience) حاصل کیا جائے۔ دوسروں کے تجربہ سے جو چیز باعتبار نتیجہ ہلاکت ثابت ہوئی ہو، اس کو چھوڑ دیا جائے، اور ان کے تجربہ سے جو مفید سبق حاصل ہوتا ہو، اس کو لے لیا جائے۔ پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کا یا تو حوالہ نہ دیا جائے، یا اگر حوالہ دینا ہے تو اس کے مفید پہلو کا حوالہ دیا جائے، اور وہ یہ ہے کہ جنگ کے منفی تجربہ سے سبق لینا، اور جنگ کا طریقہ چھوڑ کر پرامن تعمیر کا طریقہ اختیار کرنا۔ دوسروں کی غلطیوں سے اپنے لیے جواز (justification) نکالنا سخت قسم کی بے دانشی ہے۔ اگر آپ اپنے مفروضہ دشمن کی گردن کاٹیں، اور کہیں کہ فلاں لوگوں نے بھی لوگوں کی گردنیں کاٹی تھی، تو یہ ایک سرکشی کی بات ہوگی۔ دوسروں کا تجربہ سبق لینے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ اپنی غلطی کو جائز ٹھہرانے کے لیے۔ اس سلسلے میں صحابی رسول عبد اللہ ابن مسعود کا ایک حکیمانہ قول ان الفاظ میں آیا ہے: السعيد من وعظ بغيره (صحيح مسلم، حدیث نمبر 2645)۔ یعنی سعید وہ ہے جو دوسروں سے اپنے لیے نصیحت حاصل کرے۔ دوسروں کی نقل کرنا، نادانی ہے، اور دوسروں سے مفید نصیحت لینا، دانش مندی۔
*
اگر آپ ایک ملین ڈالر خرچ کر کے ایک بید کی چھڑی حاصل کریں تو یہ پانا نہیں ہوگا، وہ کھونے کی بدترین شکل ہوگی۔ کوئی بڑا اقدام صرف اس وقت بڑا ہے جب کہ وہ نتیجہ خیز بھی ہو۔ جو اقدام بظاہر بڑا ہو، مگر نتیجہ کے اعتبار سے چھوٹا ہو، وہ اقدام نہیں بلکہ خود کشی کی چھلانگ ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ (سفر نامہ، غیر ملکی اسفار، صفحہ 177)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues