It is a futile repetition of a failed strategy.
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۵۰
خلاصہ کلام
دورِ جدید میں امتِ مسلمہ کا مسئلہ ، اس کے احیاء کا مسئلہ تھا۔ اس مقصد کے لیے مسلم جدوجہد کی تاریخ غالباً 1799 سے شروع ہوتی ہے جب کہ میسور کے سلطان ٹیپو برٹش فوج سے لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ یہ جد و جہد اکیسویں صدی میں بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ مگر جان و مال کی بے شمار قربانیوں کے باوجود نتیجہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوا۔ یعنی فائدہ تو کچھ نہیں ہوا ، البتہ نقصان میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اس ناکام تجربے کا تقاضا یہ ہے کہ اب مسلمان توبہ نصوح (النور: 31) کا طریقہ اختیار کریں۔ یعنی یوٹرن (U-Turn) کا طریقہ۔ وہ اپنی کوششوں کا دوبارہ جائزہ (re-assessment) کریں، اور پھر اپنے عمل کی ری پلاننگ (re-planning) کریں۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت یہ ہے کہ وہ اپنے ثابت شدہ ناکام تجربوں کو دوبارہ نئے نئے نام کے ساتھ دہرا رہے ہیں۔ مثلاً مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کا اسلاموفوبیا کا نظریہ، مصر میں الاخوان المسلمون کی اسٹریٹ ایکٹونزم، فلسطین والوں کی خودکش بمباری (suicide bombing)، پاکستان کی پراکسی وار (proxy war)، کشمیریوں کا پتھر مارنا (stone pelting)، انڈیا کے مسلمانوں کی احتجاجی صحافت (protestant journalism)، ایران کی اسلام دشمنوں کی دریافت، افغانستان کا طالبانائزیشن (talibanization)، وغیرہ۔ یہ سب ناکام تجربات کو بے فائدہ دہرانے کے سوا اور کچھ نہیں :
It is a futile repetition of a failed strategy.
امت کا نیا مستقبل صرف نئی اور مثبت بنیاد پر کی ہوئی منصوبہ بندی کے ذریعہ بنایا جا سکتا ہے، اور نئی منصوبہ بندی کا پراسس (process) صرف اس اعتراف کے بعد شروع ہوتا ہے کہ اب تک ہم غلطی پر تھے (we were wrong)۔ غلطی کو مانے بغیر نئے مستقبل کی بات کرنا، ایسا ہے جیسے پودا لگائے بغیر ہرے بھرے باغ کا انتظار کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues