قرآن اور عصرِ جدید
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۳۷
رائج تھا۔ اس لیے ہزاروں سال کے درمیان ساری دنیا میں یہی طریقہ رائج تھا۔ مسلم عہد میں آٹھویں صدی عیسوی میں ساسانی سلطنت (Sassanid Empire) اور بازنطینی سلطنت (Byzantine Empire) کو توڑ دیا گیا۔ اس کے بعد انسانی زندگی میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع ہوا۔ یہ عمل مختلف مراحل سے گزرتا رہا۔ یہاں تک کہ 17 ویں صدی میں مغربی یورپ میں اس کی تکمیل ہوئی۔ اس کے بعد انسانی زندگی میں ایک نیا دور آ گیا۔ یہ بنیاد دور باہمی مفاد کے اصول پر قائم تھا۔ اب دنیا کا نظام مشترک مفاد (common interest) کے اصول پر چلنے لگا۔ جب کہ اس سے پہلے وہ غیر مشترک مفاد (unilateral interest) کے اصول پر چل رہا تھا۔ اس نئے دور میں دو بڑے انقلابات آئے۔ ایک، جمہوریت (democracy) اور دوسرا، صنعتی تہذیب (industrial civilization)۔
اس صورت حال نے پچھلی مساواتوں (equations) کو یکسر بدل دیا۔ اب دنیا میں نئی ثنائیت (dichotomy) وجود میں آئی، تمام انسانی مفادات دو طرفہ بنیاد پر قائم ہو گئے۔ ٹیچر کا مفاد اسٹوڈنٹ سے، اور اسٹوڈنٹ کا مفاد ٹیچر سے۔ بزنس مین کا مفاد کسٹمر سے، اور کسٹمرز کا مفاد بزنس مین سے، پولیٹیکل لیڈروں کا مفاد ووٹرز سے اور ووٹرز کا مفاد پولیٹیکل لیڈرز سے، وغیرہ۔ اس طرح دنیا میں پہلی بار وہ دور عمومی طور پر رائج ہوا جس کو حدیث میں تائید کا دور (age of mutual support) کہا گیا ہے۔
اس نئے دور کی پیشین گوئی قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی ہے: وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ یہ تاریخ میں خدائی مینجمنٹ (divine management) کا معاملہ تھا۔ قدیم زمانے میں انسانی زندگی دوست اور دشمنی کی ثنائیت (dichotomy) پر قائم تھی۔ تاریخ میں اس نئے انقلاب
‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues