قرآن اور عصرِ جدید
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۳۸
کے بعد انسانی زندگی میں ایک اور ڈائیکاٹومی قائم ہوئی، جس میں دشمنی کا تصور حذف ہو چکا تھا۔ صرف دو فریق باقی تھے۔ اور وہ تھے، دوست اور موید (supporter)۔
قرآن میں رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم دیا گیا تھا: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39)۔ یعنی ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ساری دنیا میں حکومتِ الہیہ قائم ہو جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسانی زندگی میں مخاصمانہ تعلقات (relationship based on rivalry) کے بجائے مویدانہ تعلقات (relationship based on support) پر قائم ہو جائے۔ دنیا سے مذہبی استبداد ختم ہو جائے۔
آج دنیا ایک گلوبل ولیج (global village) بن چکی ہے۔ تیز رفتار کمیونی کیشن نے تمام رکاوٹیں دور کر دی ہیں۔ ایک ملک کے دوسرے ملک سے مفادات وابستہ ہو گئے ہیں۔ کسی ملک میں کوئی چیز دستیاب ہے، کسی ملک میں کوئی دوسری چیز دستیاب ہے۔ اس طرح آپسی لین دین بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ امپورٹ ایکسپورٹ بہت بڑے پیمانہ پر ہو رہا ہے۔ ایسا پہلے کبھی تاریخ میں نہیں تھا۔ اس نئے سیناریو (scenario) میں تمام rivalries ختم ہو چکی ہیں۔ اب صرف دوست اور دوست کا equation ہے۔ دوست اور دشمن کا equation ختم ہو چکا ہے۔
اس گلوبل ولیج کی ایک علامت موجودہ زمانہ میں ہوائی سفر (air travel) ہے۔ قدیم بحری اور بری سفر کے برعکس ہوائی جہاز تمام ملکوں کے اوپر پرواز کرتا ہے، خواہ وہ اپنا ملک ہو یا غیر کا ملک ہو۔ اس کے نتیجہ میں انسانوں کی بنائی ہوئی تمام سرحدیں اپنے آپ ٹوٹ گئیں۔ اب عملاً ہر انسان تمام دنیا کا شہری ہے۔ جبکہ قدیم زمانہ میں کوئی انسان صرف اپنے ملک کا شہری ہوتا تھا۔ ایجوکیشن، جاب، سیاحت، تجارت، وغیرہ کے لیے لوگ بڑی تعداد میں ایک ملک سے دوسرے ملک جاتے ہیں۔ ان ممالک میں ان کو ہر طرح کی آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مذہب سے لوگوں کو آگاہ کریں، اس کی بھی آزادی ہے۔ اس نظر سے ہم دیکھیں تو ہمیں محسوس
‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues