کائنات پر کنٹرول
الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۱۴
کائنات پر کنٹرول
قرآن کی پہلی آیت یہ ہے : اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (1:2) ۔ یعنی ساری حمد اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ یہ دراصل وہ کلمہ ہے جو آدمی کی زبان سے اُس وقت بے اختیارانہ طور پر نکل پڑتا ہے، جب کہ وہ کائنات کا مشاہدہ کرے۔ دور بینی مشاہدہ بتاتا ہے کہ کائنات ناقابلِ قیاس حد تک وسیع اور عظیم ہے۔ دوسری طرف، خورد بینی مطالعہ بتاتا ہے کہ ناقابلِ مشاہدہ کائنات ابھی اتناہی زیادہ عظیم ہے جتنا کہ قابل مشاہدہ کائنات۔ ساری ترقیوں کے باوجود بھی تک انسان نہ کائنات کی وسعتوں کا اندازہ کر سکا ہے اور نہ وہ کائنات کی عظمتوں کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ یہ وسیع اور عظیم کائنات مسلسل طور پر متحرک ہے۔ اس کے اندر ہر لمحہ انتہائی با معنی قسم کی سرگرمیاں (meaningful activities) جاری ہیں۔ مطالعہ مزید بتاتا ہے کہ یہ اتھاہ کائنات مکمل طور پر ایک بے نقص کائنات (faultless universe) ہے۔ بے نقص حالت میں کائنات کا اس طرح قائم رہنا صرف اُس وقت ممکن ہے، جب کہ اس نظام میں کوئی ادنی تغیر (alteration) نہ آئے۔ کائنات کے اندر ایک ادنی تغیر بھی اس کے پورے نظام کو درہم برہم کر سکتا ہے۔ جدید مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات ناقابلِ قیاس حد تک وسیع ہونے کے باوجود آخری حد تک ایک ہم آہنگ (harmonious) کائنات ہے۔ وہ مکمل طور پر ایک واحد فورس سے کنٹرول ہو رہی ہے۔ اس کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے کامل طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
کائنات کی اس عالمی ہم آہنگی پر تمام سائنس داں حیرت زدہ ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس غیر معمولی ہم آہنگی کی توجیہہ کس طرح کی جائے۔ کائنات کے اندر یہ بے پناہ نظم اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کائنات ایک قادر مطلق خدا کے زیر انتظام ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پوری کائنات ایک لمحے کے اندر منتشر ہو کر رہ جائے۔ کائنات کے اندر یہ کامل ہم آہنگی صرف اُس وقت ممکن ہے، جب کہ اُس کا ناظم اپنے اندر قدرت کاملہ کی صفت رکھتا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues