Al-Risala · August 2017 · page 15

انسان کی بے اختیاری

الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۱۵

انسان کی بے اختیاری

برٹش سائنس داں سر جیمز جینز نے اپنی کتاب پر اسرار کائنات (The Mysterious Universe) میں انسان اور کائنات کے تعلق کے بارے میں لکھا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آ گیا ہے جو اس کے لیے بنائی نہیں گئی تھی :

man has strayed in a world which was not

مگر زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ کہا جائے کہ انسان ، بھٹک کر ایک اس دنیا میں آ گیا، سر جسب ملرز زیادہ تلخ بات یہ ہوئی کہ یہ کہا جائے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آ گیا ہے جس کو اس نے خود نہیں بنایا، اور نہ وہ اس دنیا کو کنٹرول کرنے والا ہے۔ اس دنیا میں انسان کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ انسان اپنے آپ کو اس دنیا میں ایک زندہ وجود کی حیثیت سے پاتا ہے۔ لیکن یہ وجود ایک عطیہ ہے، اس نے خود اپنے آپ کو وجود نہیں بخشا۔ انسان کو صحت مند جسم چاہئے۔ صحت مند جسم ہو تو وہ بھر پور زندگی گزارتا ہے، لیکن صحت مند جسم اس کے اپنے بس میں نہیں۔ انسان کو وہ تمام چیزیں چاہئیں جن کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہ سسٹم ہو تو انسان کامیاب زندگی گزارے گا، لیکن اس سسٹم کو قائم کرنا اس کے اپنے بس میں نہیں۔ انسان کو موافق موسم درکار ہے۔ موافق موسم ہو تو انسان امن و عافیت کے ساتھ زندگی گزارے گا، لیکن موافق موسم کو قائم کرنا انسان کے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی خواہش کے مطابق ابدی زندگی چاہتا ہے، لیکن ہر انسان جو پیدا ہو کر اس دنیا میں آتا ہے، وہ ایک مقرر وقت پر مر جاتا ہے۔ یہ انسان کی طاقت سے باہر ہے کہ وہ اپنے آپ پر موت کو وارد ہونے سے روک دے۔ انسان مکمل طور پر ایک ضرورت مند ہستی ہے، لیکن اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے وہ مکمل طور پر ایک خارجی طاقت کا محتاج ہے۔

یڈار اس رپورٹ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues

Printed page