Al-Risala · August 2017 · page 20

قرآن کی تصدیق

الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۲۰

اور پروٹان کے ملنے سے بنتے ہیں۔ ضرورت تھی کہ یہ تمام پارٹکل باہم ملیں، لیکن بگ بینگ کے انفجار کے بعد الیکٹران اور پروٹان بھاگ رہے تھے، کیوں کہ اُن میں کمیت (mass) نہیں تھی۔ یہ ذرات باہم مل کر ایٹم کو صرف اُس وقت بنا سکتے تھے جب کہ ان کی رفتار کم ہو، اور ان کی رفتار صرف اُس وقت کم ہو سکتی تھی جب کہ ان کے اندر کمیت پیدا ہو جائے۔

ہگس بوزان کی اہمیت یہ ہے کہ وہ اس سائنسی مسئلے کا جواب فراہم کرتاہے۔ ہگس بوزان ایک سب ایٹمک پارٹکل کا نام ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق، ہگس بوزان کا کام یہ ہے کہ وہ ایٹم کے پارٹکل کو کمیت عطا کرے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایٹم مل کر مالی کیول(molecule) بنائیں اور پھر مالی کیول کے بننے سے کمپاؤنڈ بنے۔ پھر کمپاؤنڈ کے ملنے سے وہ تمام چیزیں بنتی ہیں جو کہ اس وقت کا ئنات میں موجود ہیں۔ اگر ہگز بوزان نہ ہوتے تو پارٹکل میں کمیت پیدا نہ ہوتی جو کہ باہم مل کر ایٹم بناتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ تمام پارٹکل روشنی کی رفتار سے خلا میں سفر کرنے لگتے، پھر یہ ناممکن ہو جاتا کہ وہ باہم مل کر ایٹم بنائیں اور اس کے بعد کا ئنات کی تمام چیزیں وجود میں آئیں، ستاروں سے لے کر سیاروں تک اور غیر ذی روح اشیا سے لے کر ذی روح اشیا تک۔

قرآن کی تصدیق

قرآن کی ایک آیت ہے : اَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (4:82)۔ یعنی کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ، اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اُس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔

قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ یہ سائنس کی دریافتوں سے بہت پہلے کا زمانہ تھا۔ اس قبل در یافت زمانے میں قرآن کی اس آیت کا اترنا گویا یہ دعویٰ کرنا تھا کہ بعد کی دریافت شدہ حقیقتیں قرآن کے عین مطابق ہوں گی، قرآنی بیانات اور دریافتوں کے درمیان کبھی عدم مطابقت (inconsistency) نہ ہوگی۔ اس طرح یہ واقعہ اس بات کی تصدیق ہوگا کہ قرآن عالم الغیب کی کتاب ہے، کیوں کہ عالم الغیب کے سوا کوئی بھی پیشگی طور پر ان حقیقتوں کو

‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues

Printed page