Al-Risala · August 2017 · page 21

قرآن کی تصدیق

الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۲۱

نہیں بتا سکتا تھا۔

اس اعتبار سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بگ بینگ کا تصور اور ہگس بوزان کا تصور پیشگی طور پر قرآن میں موجود تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورہ الانبیاء کی درج ذیل آیت کا مطالعہ کیجئے : أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (21:30)۔ یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے اُن کو کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جان دار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔

قرآن کی اس آیت میں تخلیق کے تین مرحلوں کا ذکر ہے۔ پہلے مرحلے کو ’رتق‘ کہا گیا ہے ۔ رتق کا مطلب ہے منضم الاجزاء یعنی کائنات کے تمام پارٹکل کا باہم جڑا ہوا ہونا۔ اس میں کا سمک بال کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ دوسرے مرحلے کو قرآن میں ’فتق‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فتق کا مطلب ہے : الفصل بين المتصلين، یعنی باہم ملی ہوئی چیزوں کا ایک دوسرے سے الگ ہو جانا۔ اس میں بگ بینگ کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد تیسرے مرحلے میں پانی (الماء) کے بننے کا ذکر ہے۔ یہاں پانی کا ذکر علامتی طور پر ہے، یعنی پانی اور دوسری تمام چیزیں ۔ پانی ایک جوہری مادہ (substance) ہے۔ اس طرح کے بہت سے جوہری مادے کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ پانی ہائیڈروجن کے دو ایٹم اور آکسیجن کے ایک ایٹم کے ملنے سے بنتا ہے۔ یہی معاملہ دوسری تمام مادی چیزوں کا ہے۔ ہر چیز ایٹم کے ملنے سے بنی ہے، اور ایٹم اُس وقت بنا جب کہ اس کے پارٹکل میں کمیت (mass) پیدا ہوئی ۔ اس طرح، اس آیت میں پانی کا ذکر کر کے اس نوعیت کی دوسری تمام مادی چیزوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے، یعنی ’فتق‘ کے واقعے کے بعد تمام پارٹکل میں کمیت کا پیدا ہونا اور پھر پارٹکل کا مجتمع ہو کر تمام چیزوں کا وجود میں آنا۔ قرآن ، سائنس کی کتاب نہیں ہے، البتہ قرآن میں مظاہر فطرت کے بہت سے حوالے دئے گئے ہیں جو کہ سائنس کا موضوع تحقیق ہیں۔ قرآن کا مقصد صرف یہ ہے کہ فطرت میں موجود آیات

‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues

Printed page