خدا کی عظمت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۲۴
سورج کے گرد بیضوی دائرے میں چکر لگا رہا ہے۔ یہ دائرہ ساڑھے سات بلین میل پر مشتمل ہے۔ مذکورہ بلیک ہول اب تک کے دریافت کردہ تمام بلیک ہول سے زیادہ بڑا ہے۔ اس کا حجم 6 بلین سورج سے بھی زیادہ ہے۔ اس بلیک ہول کا نام M 87 رکھا گیا ہے۔ یہ بلیک ہول ہماری کہکشاں (Milky Way) سے 50 ملین سال نور کی دوری پر واقع ہے: This black hole can eat the solar system: Astronomers have discovered what they say is the biggest ever black hole which weighs the same as 6.8 billion suns and could swallow our entire solar system. According to the scientists, the black hole, identified as M87, is as large as the orbit of Neptune and is by far the largest and most distant galaxy in the nearby universe. As a point of comparison, the black hole at the centre of the Milky Way is 1,000 times smaller than this one which has been observed some 50 million light years away. (The Times of India, New Delhi, Tuesday, January 18, 2011 Page 19)
یہ واقعہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات معرفت الہی کے لیے عظیم خزانے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ واقعات خدا کی قدرت کو ناقابل قیاس حد تک عظیم بنا دیتے ہیں۔ جو آدمی ان واقعات پر سوچے گا، اس کا دل خدا کی عظمت کے تصور سے دہل اٹھے گا، اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ یہ واقعات ایک انسان کو اپنے بارے میں انتہائی عجز اور خدا کے بارے میں انتہائی قدرت کی یاد دلاتے ہیں۔ ان واقعات پر غور کرنا بلا شبہ اعلیٰ معرفت کے حصول کا کائناتی خزانہ ہے۔ معرفت یہ ہے کہ آدمی ایک طرف اپنی محدودیت (limitation) کو جانے اور دوسری طرف وہ خدا کی لامحدودیت کو دریافت کرے ۔ اس دریافت کے نتیجے میں جو کیفیت آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے، اُسی کا نام معرفت ہے۔ یہ معرفت جس کو حاصل ہو جائے، اس کے لیے گویا دنیا اور آخرت کی تمام سعادتوں کے دروازے کھل گئے۔ یہی وہ خوش قسمت انسان ہے جس کے بارے میں آخرت میں کہا جائے گا تم جنت کے دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہو، جنت میں داخل ہو جاؤ۔ آج کے بعد تمھارے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی حزن۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues