خدا کی عظمت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۲۳
خدا کی عظمت
خدا کی معرفت ایمان اور اسلام کی اساس (basis) ہے۔ جتنی اعلیٰ معرفت، اتناہی اعلیٰ ایمان۔ اس معرفت کی تکمیل اُس وقت ہوتی ہے، جب کہ آپ خدا کو اس کے کمال عظمت کے ساتھ دریافت کریں۔ ایک بندہ جب خدا کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کا وہی حال ہوتا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَلَّذِينَ اِذَا ذُکِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ (8:2)۔ یعنی خدا کی یاد سے اُن کے دل دہل اٹھتے ہیں۔ جدید فلکیاتی سائنس (modern astronomy) کا اِس معاملے میں ایک مثبت کنٹری بیوشن (contribution) یہ ہے کہ اس نے خالق کی ناقابلِ قیاس عظمت کا ادراک کرنے کے لیے ایک فریم ورک (framework) دے دیا ہے۔ اس فریم ورک کی مدد سے انسان خداوند ذو الجلال کی ناقابلِ بیان عظمت کا ایک تصور اپنے ذہن میں لاسکتا ہے۔ جدید سائنس کئی سوسال سے فلکیات کا مطالعہ کررہی ہے۔ 1608ء میںدور بینیی (telescope) کی ایجاد ہوئی، اور 1609 میں پہلی بار اٹلی کے سائنس داں گلیلیو (Galileo) نے خلا کا دوربین مشاہدہ کیا۔ یہ فلکیاتی مشاہدہ برابر بڑھتا رہا۔ پچھلے زمانے میں دوربین رصد گاہ کسی پہاڑ پر نصب کی جاتی تھی۔ اب خلائی سائنس کا زمانہ آگیا ہے۔ اب انسان نے خلائی رصد گاہ (space observatory) بنالی ہے۔ اس کے ذریعے کائنات کا مشاہدہ اتنی زیادہ دور تک کرنا ممکن ہو گیا ہے جس کی دوری کو صرف سال نور (light years) کی اصطلاح میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح خدا کی عظمت کو تصور میں لانے کے لیے ایک نیاوسیع تر دائرہ انسان کے علم میں آگیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک تازہ ترین فلکیاتی دریافت (discovery) سامنے آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ خلا میں نصب الکٹرانک دوربینوں کے ذریعے ایک بہت بڑا بلیک ہول دریافت ہوا ہے۔ یہ بلیک ہول پورے نظام شمسی (solar system) کو نگل سکتا ہے۔ نظام شمسی کا دائرہ کتنا زیادہ بڑا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے اس نظام کا بعید ترین سیارہ پلوٹو (Pluto) ہے جو
‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues