Al-Risala · August 2017 · page 28

گرهن، خدائی معجزہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۲۸

میں آیا۔ گرہن کی تاریخ کا تیسرا دور وہ ہے جو موجودہ زمانے میں دوربین کی ایجاد (1608ء) کے بعد شروع ہوا۔

اسلام نے گرہن کے تعلق سے جو بات بتائی، اس کے مطابق، گرہن کا تعلق نہ توہمات سے ہے اور نہ وہ صرف ایک مادی نوعیت کا فلکیاتی واقعہ ہے، بلکہ وہ خالق کائنات کے باشعور تخلیقی نظام کا ایک حصہ ہے۔ وہ خدا کی قدرت کاملہ کا ایک مظہر ہے، وہ انسان کے لیے خداوند عالم کا ایک تعارف ہے، گرہن خاموش زبان میں خدا کی حکیمانہ تخلیق کا اعلان کر رہا ہے۔

ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم مدینہ میں پیدا ہوئے۔ ڈیڑھ سال کی عمر میں شوال 10 ہجری (632ء) میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اتفاق سے اسی دن سورج گرہن پڑا ۔ قدیم توہماتی رواج کے مطابق، مدینہ کے کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ سورج گرہن پیغمبر کے بیٹے کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت ناپسند ہوئی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کر کے تقریر کی۔ آپ نے فرمایا: إن الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته، ولكنهما آيتان من آيات الله، فاذا رأيتموها فصلوا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1042 )۔ یعنی سورج اور چاند میں کسی انسان کی موت سے گرہن نہیں لگتا، نہ ہی کسی کی زندگی سے۔ وہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہے ۔ جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو۔ ”چاند گرہن اور سورج گرہن خدا کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں“ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ دراصل اس معاملے کے اصل معنوی پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاند گرہن اور سورج گرہن جس طرح ہوتا ہے، اس پر غور کیا جائے تو وہ آدمی کے لئے خدا کی دریافت کا ذریعہ بن جائے گا۔ وہ سادہ طور پر فلکیاتی نشانی کے بجائے، زیادہ گہرے معنوں میں خدائی نشانی ثابت ہوگا۔ چاند گرہن یا سورج گرہن ایک انوکھا تخلیقی معجزہ ہے، اس کے پیچھے خالق کائنات کی معجزانہ صناعی نظر آتی ہے ۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، گرہن اُس وقت پیش آتا ہے جب کہ تین خلائی اجسام، زمین، چاند، سورج، گردش کرتے ہوئے ایک سیدھ میں آ جائیں۔ تینوں کے سائز میں بہت زیادہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues

Printed page