Al-Risala · August 2017 · page 29

گرهن، خدائی معجزہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۲۹

فرق ہے۔ چاند کو اگر سرسوں کے دانے کے برابر سمجھا جائے تو اس کے مقابلے میں زمین فٹ بال کے برابر ہوگی اور سورج ہمالیہ پہاڑ سے بھی زیادہ بڑا ہوگا۔

یہ تین مختلف سائز کے اجسام حرکت کرتے ہوئے ایسے تناسب سے ایک سیدھ میں آجاتے ہیں کہ زمین سے دیکھنے والا ان کو یکساں سائز میں دیکھنے لگے۔ جب تینوں کے درمیان چاند ہو تو سورج گرہن واقع ہوگا۔ اور جب ان کے درمیان زمین ہو تو چاند گرہن واقع ہوگا۔ یہ وسیع خلا میں ایک انتہائی انوکھی پوزیشننگ کا معاملہ ہے:

It is a uniquely well-calculated positioning of three moving bodies, highly unequal in size, in the vast space. گرہن (eclipse) اُس وقت واقع ہوتا ہے جب کہ وسیع خلا کے تین اجرام، زمین، چاند، سورج، انتہائی متناسب دوری کے ساتھ بالکل ایک سیدھ میں آجائیں۔ یہ ایک انتہائی حیرت ناک ظاہر ہ ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انسائیکلو پیڈیا بر بیٹا کا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے—ایک انتہائی غیر معمولی توافق کی بنا پر سورج اور چاند کا سائز اور دوری ایسے ہوجاتے ہیں کہ زمین سے بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے گویا کہ دونوں بالکل برابر ہوں:

By a remarkable coincidence, the sizes and distances of the Sun and Moon are such that they appear as very nearly the same angular size as the earth. (EPB 6/189)

گرہن کے اس عجیب واقعے کو مقالہ نگار نے محض اتفاق (coincidence) قرار دیا ہے۔ مگر یہ بالکل غیر منطقی بات ہے۔ اس قسم کا نادر اتفاق اولاً تو ممکن نہیں اور بالفرض اگر ایسا ہو جائے تو وہ بمشکل ایک بار ہو سکتا ہے، لیکن فلکیاتی تاریخ بتاتی ہے کہ گرہن کا یہ واقعہ لاکھوں برس سے اسی طرح پابندی (regularity) کے ساتھ ہر سال پیش آرہا ہے۔ اس قسم کی کامل باضابطگی ہرگز اتفاقاً نہیں ہو سکتی۔ یقینی طور پر وہ ایک قادر مطلق ہستی کی مسلسل کارفرمائی کے باعث ہی ممکن ہے۔ اتفاق کا لفظ اس حیرت ناک فلکیاتی ظاہرے کی توجیہہ کے لیے آخری حد تک ناکافی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues

Printed page