Al-Risala · August 2017 · page 31

کشتیٔ نوح کی دریافت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۳۱

کشتیٔ نوح کی دریافت

حضرت نوح ابتدائی دور کے پیغمبر ہیں۔ وہ عراق کے علاقہ میسوپوٹامیہ (Mesopotamia) میں مبعوث ہوئے تھے۔ لمبی مدت تک دعوت و تبلیغ کے باوجود بہت کم لوگ اُن پر ایمان لائے، یہاں تک کہ ایک عظیم طوفان کے ذریعے پوری قوم کو تباہ کر دیا گیا۔ اُس وقت اللہ کے حکم سے حضرت نوح نے ایک بڑی کشتی بنائی۔ حضرت نوح نے اس کشتی میں اُس وقت کے تمام اہلِ ایمان کو بٹھایا۔ طوفان میں بہتی ہوئی یہ کشتی آخر کار مشرقی ترکی کے پہاڑ ارارات (Ararat) پر ٹھہر گئی۔ اس کے بعد اس میں بیٹھے ہوئے تمام لوگ کشتی سے نکل کر مختلف علاقوں میں آباد ہو گئے۔ یہ واقعہ پانچ ہزار سال پہلے کا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا تھا کہ یہ کشتی محفوظ رہے گی اور بعد کے زمانے میں دریافت ہو کر لوگوں کے لیے نشانی (sign) بن جائے گی۔ سورہ القمر میں حضرت نوح کے تذکرہ کے بعد یہ آیت آئی ہے: وَلَقَدْ تَرَکْنَاہَا آيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (54:15)۔ یعنی ہم نے اس (کشتی) کو نشانی کے لیے چھوڑ دیا، پھر کوئی ہے سوچنے والا۔ یہی بات سورہ العنکبوت میں ان الفاظ میں آئی ہے: وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ (29:15)۔ یعنی پھر ہم نے اس (کشتی) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔

انیسویں صدی کے آخر میں جب ہوائی پرواز کا زمانہ آیا تو کچھ لوگوں نے ارارات پہاڑ کے اوپر پرواز کرتے ہوئے برف کے ذخائر (glacier) کے اندر چھپی ہوئی ایک کشتی کے آثار دیکھے۔ لیکن بار بار کوشش کے باوجود اس معاملے میں کچھ زیادہ معلومات حاصل نہ ہو سکیں ۔ اکیسویں صدی میں جب گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں برف کے ذخائر (glacier) پگھلنے لگے تو ہوائی پرواز کے دوران معلوم ہوا کہ کوہ ارارات پر ایک پوری کشتی موجود ہے۔ اس کے بعد وہاں چین اور ترکی کے مسیحیوں کا ایک گروپ پہنچا۔ انھوں نے جدید آلات کی مدد سے کاربن ڈیٹنگ (carbon dating) کے ذریعے مذکورہ کشتی کی عمر معلوم کی۔ اب معلوم ہوا کہ یہ کشتی عین اُسی زمانے کی ہے، جب کہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues

Printed page