کشتیٔ نوح کی دریافت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۳۲
یہاں طوفان نوح آیا۔ اس دریافت کی رپورٹ میڈیا میں آچکی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (28 اپریل 2010) میں اس کی تفصیل حسب ذیل الفاظ میں شائع ہوئی ہے : HONG KONG: A group of Chinese and Turkish evangelical explorers said they believe they may have found Noah’s Ark — four thousand metres up a mountain in Turkey. The team say they recovered wooden specimens from a structure on Mount Ararat in eastern Turkey that carbon dating proved was 4,800 years old, around the same time the ark is said to have been afloat. “It’s not 100% that it is Noah’s Ark but we think it is 99.9% that this is it,” Yeung Wing-cheung, a Hong Kong documentary filmmaker and member of the 15-strong team from Noah’s Ark Ministries International said. The structure had several compartments, some with wooden beams, which were believed to house animals, he said. The group of archaeologists ruled out an established human settlement on the grounds that one had never been found above 3,500 metres in the vicinity. قربِ قیامت کی نشانیوں میں غالباً یہ سب سے زیادہ واضح نشانی ہے۔ انسان ہزاروں سال سے لکڑی کی کشتی بنا رہا ہے۔ قدیم زمانے کی کشتیوں میں سے اب کوئی بھی کشتی دنیا میں محفوظ نہیں، کیوں کہ لکڑی کچھ دنوں کے بعد فطری طور پر بوسیدہ ہو کر ختم ہو جاتی ہے۔ کشتیوں کی تاریخ میں حضرت نوح کی کشتی ایک exception ہے۔ اس استثنا کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو تھا۔ صرف اللہ کو معلوم تھا کہ یہ کشتی طوفان میں بہتی ہوئی پہاڑ کے اوپر پہنچ جائے گی، پھر فطری عمل کے تحت وہ گلیشیر کے نیچے دب جائے گی اور اس طرح وہ محفوظ رہے گی۔ یہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بیسویں صدی کے آخر میں گلوبل وارمنگ کا معاملہ پیش آئے گا اور پہاڑ کے اوپر برف پگھلنا شروع ہو جائے گی، یہاں تک کہ کشتی نوح صاف دکھائی دینے لگے گی۔ اکیسویں صدی میں کشتی نوح کا سامنے آ جانا اس بات کی علامت ہے کہ جس طرح پانچ ہزار سال پہلے ایک بڑے طوفان کے ذریعے اُس وقت کی آبادی ختم ہو گئی تھی، اسی طرح اب ایک اور زیادہ بڑا طوفان آنے والا ہے جس میں تمام انسان ختم ہو جائیں گے، اور صرف وہ لوگ بچیں گے جن کو اللہ اپنی جنت میں آباد کرنے کے لیے منتخب کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues