نیک و بد کی تمیز
الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۳۳
نیک و بد کی تمیز
امریکا میں ایک انٹرنیشنل سائنسی ادارہ قائم ہے۔ اس ادارے کا مقصد بچوں کے معاملات کی سائنسی تحقیق کرنا ہے۔ اس ادارے کا نام یہ ہے :
Infant Cognition Center, Yale University, Connecticut. اس ادارے کے تحت حال میں ایک ریسرچ ہوئی ہے۔ یہ ریسرچ نفسیات کے پروفیسر پال بلوم (Paul Bloom) کی رہنمائی میں ہوئی ہے۔ اس ریسرچ کے نتائج اخبارات میں شائع ہوئے ہیں۔ اس کی تفصیل انٹرنیٹ پر دیکھی جاسکتی ہے۔ اگلے صفحہ پر اس ریسرچ کا وہ خلاصہ شائع کیا جارہا ہے جو نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (11 مئی 2010) میں چھپا ہے۔ قدیم زمانے سے یہ تصور چلا آرہا تھا کہ انسان کی فطرت میں نیک اور بد کی تمیز موجود ہے۔ یہ بات قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان ہوئی ہے: فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (91:8)۔ موجودہ زمانے میں مغرب میں کچھ مفکرین پیدا ہوئے جنھوں نے اس کے برعکس نظریہ پیش کیا۔ مثال کے طور پر سگمنڈ فرائڈ (وفات 1939)، وغیرہ۔ ان لوگوں نے اپنے خود ساختہ نفسیاتی مطالعہ کے حوالے سے بتایا کہ انسان کی فطرت پیدائشی طور پر ایک سادہ پلیٹ کی مانند ہوتی ہے۔ اس کے اندر کسی چیز کو اچھا اور کسی چیز کو برا سمجھنے کا کوئی شعور موجود نہیں ہوتا۔ اس قسم کا شعور تمام تر سماج کے اثر (social (conditioning سے پیدا ہوتا ہے۔ بیسویں صدی میں یہی نظریہ تعلیم یافتہ طبقے پر چھایا رہا۔ مگر اکیسویں صدی میں جو نفسیاتی تحقیقات ہوئی ہیں، انھوں نے اس نظریہ کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ اس تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہے۔ کیوں کہ جب وہ کوئی خلاف عدل کام کرتا ہے تو وہ اپنے شعور فطرت سے انحراف کر کے ایسا کرتا ہے۔ انسان کا اخلاقی احساس اس کی داخلی فطرت پر مبنی ہے، وہ محض خارجی اثرات کا نتیجہ نہیں— اس طرح اس معاملے میں مذہبی نقطہ نظر دوبارہ تاریخ میں واپس آگیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues