کائنات کی وسعت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۴۶
کائنات کی وسعت
جب سے خلا کے دور بینی مشاہدے کا دور آیا ہے، نئی کہکشاؤں اور نئے ستاروں کا انکشاف ہوتا رہتا ہے۔ کچھ دنوں پہلے اس قسم کا ایک خلائی انکشاف سامنے آیا ہے۔ مغربی سائنس دانوں کی ایک ٹیم فرانس کی رصدگاه (Cote d'Azur Observatory) کے تحت خلائی مشاہدہ کر رہی تھی۔ اُس ٹیم نے ایک ایسا نیا ستارہ دریافت کیا ہے، جو ہمارے سورج سے تیرہ سو گنا بڑا ہے اور زمین سے بارہ ہزار سال نور کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہ سورج سے تقریباً ایک میلین گنا زیادہ روشن ہے۔ خورد بین اور دوربین جیسے آلات کی دریافت سے پہلے انسان کو دنیا کے عجائبات کے بارے میں بہت کم معلوم تھا۔ بیسویں صدی کا زمانہ معلوماتی انفجار (knowledge explosion) کا زمانہ ہے۔ اس دور میں کائنات کے بارے میں بے شمار انوکھی باتیں دریافت ہوئیں جن کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔
اب وہ وقت آگیا ہے کہ انسان خالق کی معرفت کو زیادہ بڑے پیمانے پر دریافت کرے۔ وہ خالق کی عظمتوں کا نیا برتر ادراک حاصل کرے ۔ وہ آیات الله (signs of God)، آلاء اللہ (wonders of God) کے نئے پہلوؤں کو دریافت کرے ۔ وہ عظمتِ خداوندی کے نئے احساس کے تحت کہہ اٹھے۔ الحمد للہ رب العالمین۔
ایک حدیث میں قرآن کے بارے میں آیا ہے: لا تنقضي عجائبه (قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے) سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906۔ یہ عجائب کتاب کے عجائب نہیں، بلکہ وہ صاحب کتاب کے عجائب ہیں۔ بعد کے زمانے کی تمام کائناتی دریافتیں اسی پیشین گوئی کی تفصیل ہیں، وہ خالق کی لامحدود عظمت کا بیان ہیں۔
اس خلائی دریافت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ نیا دریافت شدہ ستارہ اور سورج دونوں ایک ہی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ نیا دریافت شدہ ستارہ جس طرح ایک ستارہ ہے، اُسی طرح سورج بھی ایک
‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues