کائنات کی وسعت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۴۷
ستارہ ہے۔ البتہ نیا دریافت شدہ ستارہ سورج کے مقابلے میں تیرہ سوگنا زیادہ بڑا ہے۔ اگر ایسا ہوتا کہ نیا دریافت شدہ ستارہ سورج کی جگہ پر ہوتا اور سورج نئے ستارے کی جگہ پر، تو زمین پر اتنی زیادہ گرمی ہوتی کہ زندگی کی کوئی بھی قسم یہاں موجود نہ ہوتی، نہ پانی ، نہ نباتات، نہ حیوانات، نہ انسان۔ ستاروں کی یہ پوزیشن نہایت با معنی ہے۔ قرآن میں اس خلائی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ (76:75)۔ یعنی پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے مواقع کی۔ اور اگر تم جانو یہ بہت بڑی قسم ہے۔ اس آیت میں قسم کا مطلب گواہی ہے۔ اور مواقع کا مطلب وقوع (placement) ہے، یعنی وسیع خلا میں ستاروں کو نہایت درست مقام پر رکھنا ایک عظیم شہادت ہے جو خالق کی بے پناہ قدرت اور بے پناہ حکمت کو بتاتی ہے۔ وسیع خلا میں ستاروں کا وقوع اتفاقا نہیں ہوسکتا۔ یہ بامعنی وقوع (meaningful placement) گواہی دے رہا ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک عظیم ہستی ہے اور اس نے عظیم قدرت کے ذریعے یہ نظام قائم کیا ہے۔ اس عظیم کا ئناتی واقعے کی اس کے سوا کوئی اور توجیہہ ممکن نہیں۔
Found: A yellow star that is 1,300 times bigger than Sun The largest ever yellow star, measuring 1,300 times the size of our Sun, has been discovered nearly 12,000 light-years from Earth. The star, dubbed HR 5171 A, located in the constellation Centaurus is the largest known member of the family of yellow stars to which our Sun belongs. It is also one of the 10 largest stars found so far 50%laGrger than the famous red supergiant Betelgeuseand about one million times brighter than the Sun. The team led by Oliver Chesneau of the Cote d'Azur Observatory in Nice, France, found that the yellow hypergiant star is much bigger, measuring 1,300 times the diameter of the Sun. (The Times of India, New Delhi, March 14, 2014, p. 19)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues