Al-Risala · August 2017 · page 49

تسخیر کائنات

الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۴۹

یہی معاملہ سمندر میں چلنے والی کشتیوں کا ہے۔ یہاں بھی خدا کا مقرر کیا ہوا ایک قانون فطرت کام کر رہا ہے۔ یہ ایک آبی قانون ہے جس کو آج کل کی زبان میں ہائیڈروسٹیٹکس (hydrostatics) کہا جاتا ہے جس کا ایک شعبہ بائنسي (buoyancy) ہے۔ بائنسي(buoyancy) سے مراد پانی کا یہ انوکھا قانون ہے کہ جب کوئی چیز پانی میں ڈالی جاتی ہے تو وہ پانی کے اندر جتنی جگہ گھیرتی ہے، اُسی کے بقدر وہاں آپ ورڈ پریشر پیدا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں کشتی پانی کی سطح پر تیرنے لگتی ہے :

Buoyancy: The upward pressure by any fluid on a body partly or wholly immersed therein: it is equal to the weight of the fluid displaced. تسخیر کا دوسرا واقعہ وہ ہے جس کا تعلق بالائی خلا سے ہے۔ زمین کے اوپر جو وسیع خلا ہے، وہ بہت بڑے بڑے نہایت گرم ستاروں سے بھرا ہوا ہے، اس لیے اس کو ستاروں کی دنیا (starry universe) کہا جاتا ہے۔ یہ تمام ستارے ہماری زمین سے ایک مقرر دوری پر واقع ہیں۔ یہ مقرر دوری اگر قائم نہ رہے تو ہماری پوری زمین جل کر راکھ ہو جائے۔ زمین کی سطح سے رات کے وقت جب کھلے آسمان کو دیکھا جائے تو اوپر کی فضا میں بہت سے چھوٹے چھوٹے ستارے نظر آتے ہیں۔ یہ ستارے بہت بڑے بڑے ستارے ہیں، لیکن دوری کی وجہ سے وہ چھوٹے نظر آتے ہیں۔ آنکھ سے دیکھنے میں تقریباً دس ہزار ستارے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ستارے وہ ہیں جو ہماری قریبی کہکشاں (Milky Way) سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وسیع خلا میں بے شمار بڑے بڑے ستارے ہیں جو مسلسل حرکت کر رہے ہیں۔ ایک سو بلین سے زیادہ کہکشائیں (galaxies) ہیں اور ہر کہکشاں میں تقریباً ایک سو بلین ستارے پائے جاتے ہیں۔

اس وسیع عالم نجوم کو انسان اپنی فطری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری دنیا میں ایسے مادی اسباب رکھ دئے جن کو انسان دریافت کرے اور ان کو ترقی دے کر طاقت ور

‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues

Printed page