تسخیر کائنات
الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۵۰
دوربین (telescope) بنائے۔ چناں چہ موجودہ زمانے میں خلائی دوربین کو استعمال کر کے انسان بے شمار ستاروں اور کہکشاؤں کو دیکھتا ہے۔
سمندروں (اور حیوانات) کے معاملے میں تسخیر کا مطلب یہ تھا کہ انسان قانون فطرت کو جانے اور اس کی مدد سے ان چیزوں کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرے۔ عالم نجوم کے معاملے میں تسخیر کا مطلب اُن کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وسیع عالم نجوم کو انسان آلات کی مدد سے دیکھے، وہ ان پر غور و فکر کرے۔ وہ غور و فکر کے ذریعے عالم نجوم کو اعلیٰ معرفت کے حصول کا ذریعہ بنائے۔
سمندروں اور حیوانات کی تسخیر انسان کی خدمت کے لیے ہے۔ اور عالم نجوم کی تسخیر اس لیے ہے کہ ان کے ذریعے سے آدمی خالق کی عظمت کو دریافت کرے۔ وہ اُن میں غور و فکر کر کے اپنے لیے معرفت اعلیٰ کا رزق حاصل کرے۔
☆☆☆☆☆
قرآن میں کائناتی واقعات کو قرآنی پیغام کے حق میں بطور استدلال پیش کیا گیا ہے۔ گویا قرآن میں جو بات نظری طور پر کہی گئی ہے، کائنات اس کے حق میں واقعاتی دلیل ہے۔ اس اعتبار سے پوری سائنس قرآن کا علم کلام ہے۔ کیونکہ سائنس کسی سائنس داں کے خود ساختہ علم کا نام نہیں بلکہ وہ خدا کی کائنات میں کام کرنے والے قوانین کی تلاش کا نام ہے۔ ان قوانین کا جو حصہ بھی سائنس دریافت کرتی ہے وہ خدا کی کار فرمائیوں کی ایک جھلک ہوتی ہے، وہ خدا کی آیتوں میں سے ایک آیت (نشانی) کا انسانی علم میں آنا ہوتا ہے۔ سائنس داں کے لئے سائنس کا علم برائے علم ہے یا زیادہ سے زیادہ علم برائے تعمیر دنیا۔ مگر مومن کے لئے سائنس ایک علمی ہتھیار ہے جس سے وہ دعوت حق کی جدوجہد میں کام لیتا ہے، جس سے وہ اپنی بات کو مدلل کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ (اسلام پندرھویں صدی میں)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues