اللہ کی رؤیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۶
اللہ کی رؤیت
حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے، جو حدیث جبریل کے نام سے مشہور ہے۔ اس حدیث کا ایک جزء یہ ہے: أن تعبد الله كأنك تراه، فإن لم تكن تراه فإنه يراك (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50)۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھتے ہو تو وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔
اس حدیث میں عبادت کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ حدیث پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے اگرچہ براہ راست اللہ کی رؤیت ممکن نہیں، لیکن انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ شبہہ رؤیت کے درجے میں اللہ کو پاسکے۔ رؤیت اور شبہہ رؤیت کے درمیان اگر چہ ظاہر کے اعتبار سے فرق ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ کسی آدمی کو اللہ کی شبہہ رؤیت کس طرح حاصل ہوتی ہے۔ اس کا طریقہ ہے اللہ کی تخلیق میں غور و فکر کرنا۔ اللہ اپنی ذات کے اعتبار سے اگرچہ ہمارے سامنے ظاہر نہیں ہے۔ لیکن اپنی صفات کے اعتبار وہ اپنی تخلیقات میں پوری طرح نمایاں ہے۔ تخلیق گویا خالق کی معرفت کا آئینہ ہے۔ جس نے تخلیق کو دیکھا، اس نے گویا خالق کو دیکھ لیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کسی نے آرٹ کو دیکھا تو اس نے گویا آرٹسٹ کو دیکھ لیا۔
موجودہ زمانے میں اہل سائنس نے یہ دریافت کیا ہے کہ کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) ہے۔ یہ دریافت اپنے آپ میں بتاتی ہے کہ کائنات میں ذہن کی کار فرمائی ہے۔ ایسا ہے تو یقینی طور پر یہاں کوئی صاحب ذہن موجود ہے۔ ذہن کی کارفرمائی سے ذہن کا وجود ثابت ہوتا ہے، اور ذہن کا وجود یہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں ایک صاحب ذہن ہستی موجود ہے۔ سائنس کی زبان میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذکورہ دریافت کے بعد خالق کا وجود پر ابیلیٹی (probability) کے درجے میں ثابت ہو جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues