Al-Risala · September 2017 · page 7

اسفل سافلین

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۷

اسفل سافلین

قرآن کی سورہ التین میں انسان کے بارے میں ایک عمومی اعلان ان الفاظ میں آیا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ، ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ (95-4)۔ یعنی ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا: We have indeed created man in the best of mould, then We cast him down as the lowest of the low. انسان کی ساخت بہترین ساخت ہے، یہ ایک معلوم بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کا تخلیقی نقشہ تمام دوسری مخلوقات سے بہتر صورت میں بنایا گیا ہے۔ خاص طور پر دماغ (mind) ایک ایسا عطیہ ہے جو انسان کے سوا کسی بھی مخلوق کو نہیں دیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اسفل سافلین سے کیا مراد ہے۔ وہ کیا چیز ہے جس میں انسان دوسری تمام مخلوقات کے مقابلے میں کمتر درجہ میں ہے۔ انسان کی حیثیت ایک جاندار مخلوق کی ہے۔ سائنسی مطالعے کے مطابق، جاندار اشیاء کی ایک ضرورت وہ ہے جس کو ہیبیٹاٹ (habitat) کہا جاتا ہے۔ ہیبیٹاٹ سے مراد وہ فطری مسکن (natural home) ہے جہاں کوئی جاندار مخلوق اپنی زندگی کے تمام تقاضوں کے ساتھ رہ سکے:

(Habitat is) the natural home or environment of an animal, plant, or other organism. سیارہ ارض (planet earth) کے اوپر چھوٹی بڑی بہت سی زندہ اشیاء پائی جاتی ہیں۔ ان زندہ اشیاء کی تعداد سائنسی مطالعے کے مطابق، تقریباً ایک ٹریلین ہے: In May 2016, scientists reported that 1 trillion species are estimated to be on Earth. مطالعہ بتاتا ہے کہ زمین پر موجود زندہ اشیاء میں سے ہر ایک کا ہیبیٹاٹ یہاں موجود ہے۔ مثلاً مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، پانی مچھلی کا ہیبیٹاٹ ہے۔ چناں چہ خالق نے مچھلی کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues

Printed page