اجتماعی صبر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۹
اجتماعی صبر
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: المؤمن الذي يخالط الناس، ويصبر على أذاهم، أعظم أجرا من المؤمن الذي لا يخالط الناس، ولا يصبر على أذاهم (ابن ماجہ، حدیث نمبر 4032)۔ یعنی وہ مومن جو لوگوں کے درمیان رہتا ہے، اور ان کی اذیتوں پر صبر کرتا ہے، وہ زیادہ اجر پاتا ہے اس مومن سے جو لوگوں کے درمیان نہیں رہتا، اور لوگوں کی اذیتوں پر صبر نہیں کرتا۔ اس حدیث میں انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی کے فرق کو بتایا گیا ہے۔ ایک مومن وہ ہے جو نماز روزہ جیسے ذاتی اعمال کرتا ہے۔ لیکن اجتماعی زندگی میں جب تک وہ لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہو تو اس کو ایسے واقعات پیش نہیں آئیں گے جو اجتماعی زندگی میں کسی کو پیش آتے ہیں۔ مثلاً اس کی انا (ego) پر ضرب لگنا۔ اس کو کسی سے ایسی بات سننے کا تجربہ ہونا، جو اس کو آفنڈ (offend) کرنے والا ہو۔ اس کو کبھی ایسا سابقہ پیش نہیں آئے گا، جب اس کو یہ محسوس ہو کہ اس کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس کو لوگوں کی طرف سے کسی اذیت کا تجربہ پیش نہیں آئے گا۔ وہ ایک معتدل زندگی گزارے گا۔ اس کو کبھی کسی سے شکایت نہ ہوگی۔ مگر اس قسم کی زندگی کا درجہ اللہ کے یہاں کم ہے۔ اس کے برعکس معاملہ اس مومن کا ہے جو لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ اس کے ساتھ فطری طور پر ایسا ہوگا کہ کبھی اس کو محسوس ہوگا کہ مجھ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، کبھی اس کو محسوس ہوگا کہ اس کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا جا رہا ہے، کبھی وہ کسی کی بات پر آفنڈ (offend) ہو جائے گا، کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش آئے گا جو اس کو اپنی عزت نفس کے اعتبار سے بظاہر نا قابل برداشت محسوس ہوگا، کبھی اس کو کسی سے انا کا مسئلہ (ego clash) پیش آ جائے گا، وغیرہ۔ اس کے باوجود وہ اللہ کی خاطر اعلیٰ ایمانی روش پر قائم رہے گا۔ گویا کہ وہ اذیتوں کے باوجود ایک بے شکایت (complaint-free) انسان بنا رہے گا۔
ان دونوں قسم کے انسانوں میں سے دوسرے انسان کا درجہ اللہ کے یہاں بہت بڑا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues