اجتماعی صبر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۰
کیوں کہ وہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی اذیت کے باوجود نارمل طریقے سے ایمان و اسلام پر قائم رہا۔ دوسروں کی طرف سے اذیت پیش آنے کے باوجود اعتدال پر قائم رہنا، سادہ بات نہیں۔ ایسا انسان بننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایمان و اسلام کے اعتبار سے ایک تیار ذہن (prepared mind) ہو وہ شعوری طور اس حقیقت کو جانتا ہو کہ اجتماعی زندگی میں لازماً خلاف مزاج باتیں پیش آتی ہیں۔ مگر اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی مکمل طور پر بے شکایت انسان بن جائے۔
یہ اعلیٰ انسان وہ ہے جو آرٹ آف مینجمنٹ (art of management) کو جانتا ہے۔ جو یہ جانتا ہے کہ کس طرح غیر معتدل واقعہ کو پیچ کرکے معتدل واقعہ بنایا جائے۔ جو یہ جانتا ہے کہ کس طرح منفی تجربہ کو مثبت تجربہ میں کنورٹ (convert) کیا جائے۔ جو اس راز سے واقف ہے کہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف اس لیے ہوتی ہیں کہ ان کے پیش آنے پر آدمی فوراً ہی ان کو بھلا دے، وہ ان سے کوئی اثر قبول نہ کرے۔
ایسا انسان وہ ہے جو یہ جانے کہ ایمانی زندگی میں یہ کرنا پڑتا ہے کہ جب کوئی خلاف مزاج بات پیش آئے تو اس کو اپنے اوپر نہ لیا جائے، بلکہ اسی وقت اس کو اللہ کے خانے میں ڈال دیا جائے۔ خلاف مزاج تجربہ پیش آنے کی صورت میں وہ یہ کہہ سکے— یہ اللہ کا معاملہ ہے، یہ میرا معاملہ نہیں۔ جب آپ کے ساتھ کوئی خلاف مزاج بات پیش آئے تو اس کو منفی معنی (negative sense) میں نہ لیجیے، بلکہ اس کو ایک موقع (opportunity) کے طور پر دیکھیے ۔ یہ موقع کہ فرشتوں (کراماً كاتبین) نے آپ کے ریکارڈ میں لکھا کہ یہ وہ انسان تھا جو اللہ کی خاطر ہر حال میں صبر و رضا کے اصول پر قائم رہا۔ ایسے انسان کو اللہ کے یہاں النفس المطمئنہ (الفجر: 27) کا درجہ دیا جائے گا۔ یعنی عقد نفسی سے پاک انسان (complex-free soul) کا درجہ۔ یہی وہ انسان ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے لیے جنت کے دروازے اپنے آپ کھلتے چلے جائیں گے، حتیٰ کہ کوئی دروازہ اس کے لیے بند نہ رہے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues