Al-Risala · January 2017 · page 42

عہد اسلام

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۴۲

عہد اسلام

قرآن و حدیث میں اسلام کے مستقبل کے بارے میں ایسی پیشین گوئیاں (predictions) موجود ہیں، جو بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو زمانے آنے والا ہے، وہ اسلام کا زمانہ ہوگا۔ مثلاً ایک روایت یہ ہے: صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ سے شکایت کی، اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کو تکیہ بنائے ہوئے لیٹے تھے۔ ہم نے کہا کہ کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد نہیں مانگتے، کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا نہیں کرتے۔ آپ نے فرمایا، تم سے پہلے جو لوگ تھے، ان کا یہ حال تھا کہ آدمی کو پکڑا جاتا، اس کے لیے زمین میں گڈھا کھودا جاتا، پھر اس کو اس میں ڈال دیا جاتا، پھر آرالا یا جاتا تھا اور اس کے سر پر چلا یا جاتا تھا، اور اس کو دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا، اور (کبھی ایسا ہوتا کہ کسی آدمی کے جسم پر) لوہے کی کنگھی کی جاتی، یہاں تک کہ وہ اس کے گوشت سے بڑھ کر اس کی ہڈی تک پہنچ جاتی تھی۔ مگر یہ چیز اس کو اس کے دین سے روکنے والی نہیں بنتی تھی۔

پھر آپ نے فرمایا: واللہ لیتمن هذا الأمر، حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضرموت، لا يخاف إلا الله، والذئب على غنمه، ولكنكم تستعجلون۔ یعنی خدا کی قسم یہ امر تکمیل تک پہنچے گا، یہاں ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا، اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر نہیں ہوگا، اور اپنی بکریوں پر بھیڑیے کا، مگر تم لوگ جلدی کر رہے ہو۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6943)۔

یہ قول رسول ایک پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کی تاریخ میں جو اہل دین پر ظلم کیا جاتا تھا، وہ اسلام کے بعد کی تاریخ میں اللہ کی مدد سے ختم ہو جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قبل از اسلام کا دور، اگر مخالف اسلام دور تھا تو بعد از اسلام کا دور، موافق اسلام کا دور ہوگا۔ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم یہ مانیں کہ اسلام کے بعد کے زمانے میں یہ دور آیا۔ اب اس

‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues

Printed page