سیاسی اقتدار کی نوعیت
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۴۱
بھی موجود ہیں تو ان سب پر یہ مثال صادق آتی ہے: تاڑ سے گرا اور کھجور میں اٹکا۔ ان تمام تحریکوں نے یہی کیا کہ انھوں نے اپنے نشانے کی غلطی کا اعلان نہیں کیا۔ البتہ سابق نام کے ساتھ اپنے نئے کام کو جاری رکھا۔ یہ طریقہ و عملی کا طریقہ ہے، اور عملی اسلام میں بلاشبہ غیر مطلوب ہے۔ اس دور کے مسلم بانیانِ تحریک کے ساتھ بظاہر ایک ہی معاملہ پیش آیا۔ ان لوگوں کا فکر پچھلے ہزار سال کے سیاسی حالات میں بنا تھا۔ پچھلے ہزار سال کے دوران دنیا میں ہر جگہ پولیٹیکل ماڈل کا رواج تھا۔ اس سے ان بانیانِ تحریک کے اندر پولیٹیکل مائنڈ سیٹ بنا۔ انھوں نے اپنے اس پولیٹیکل مائنڈ سیٹ کو درست سمجھ کر اس کے مطابق تحریک شروع کر دی۔ مگر یہ خلاف زمانہ حرکت (anachronism) کا معاملہ تھا۔ اب قدیم دور کا پولیٹیکل ماڈل ختم ہو چکا تھا، نئے دور میں صرف ایک ہی ماڈل قابلِ عمل ہے، اور وہ ہے غیر سیاسی (non-political) ماڈل۔ قدیم زمانہ بادشاہت کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانہ جمہوریت (democracy) اور سیکولرزم کا زمانہ ہے۔ سیکولرزم کا مطلب ہے مذہبی ناطرف داری، اور ڈیموکریسی کا مطلب ہے ہر ایک کے لیے مکمل آزادی، ہر ایک کو مواقع کے استعمال کا یکساں حق۔ اس انقلاب سے پہلے مواقع پر صرف بادشاہ کی اجارہ داری (monopoly) ہوا کرتی تھی۔ اب یہ اجارہ داری ختم ہو چکی ہے۔ اب نئے حالات میں تمام مواقع تمام انسانوں کے لیے یکساں طور پر قابلِ استعمال ہو چکے ہیں۔ اب صرف ایک ہی چیز کی پابندی ہے، اور وہ ہے تشدد (violence)۔ دورِ جدید کے مسلم بانیانِ تحریک نے بظاہر اس راز کو نہیں سمجھا، وہ غیر ضروری طور پر اُس چیز کے لیے لڑتے رہے، جو عملاً ان کو حاصل ہو چکی تھی۔ حدیث کے مطابق، بعد کے زمانے میں اسلام کا داعی بادشاہ کی طرح (کالملوك على الأسرة) سفر کرے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2799)۔ یہاں مثلِ بادشاہ سفر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو مواقع قدیم زمانے میں بادشاہوں کے لیے خاص سمجھے جاتے ہیں، وہ مواقع عام داعیانِ اسلام کو حاصل ہو جائیں گے۔ رکاوٹ کے بغیر وہ ساری دنیا میں اسلام کی دعوت پھیلانے کے لیے آزاد ہوں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues