Al-Risala · September 2017 · page 14

شخصیت انسانی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۴

حدیث قدسی میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : إِن رحمتی غلبت غضبی (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3194)

مذکورہ آیت بتاتی ہے کہ انسان اگر توبہ کا ثبوت دے تو خالق کے نزدیک وہ قابل معافی قرار پائے گا۔ توبہ کا لفظی مطلب ہے لوٹنا۔ یعنی غلطی کے بعد شدید ندامت کا احساس ہونا۔ اپنی غلطی کا نہایت شدید انداز میں اعتراف کرنا۔ غلطی کرنے کے بعد شدید انداز میں اصلاح کا طالب بننا۔ اگر انسان کے اندر یہ شدید اعتراف پیدا ہو جائے تو وہ خالق کے سامنے بندے کی طرف سے ایک قابل قبول عذر بن جائے گا۔ خالق اپنی رحمت کے ساتھ بندے کی طرف دوبارہ لوٹ آئے گا۔ یہی مطلب ہے اس بات کا کہ — اللہ کے غضب کے اوپر اس کی رحمت غالب ہے۔

توبہ دراصل ندامت (repentance) کا دوسرا نام ہے۔ غلطی کرنے کے بعد جب انسان کے اندر شدید ندامت پیدا ہو تو وہ اس کی پوری شخصیت کے لیے ایک دھماکہ کے ہم معنی ہوتی ہے۔ اس کے بعد آدمی کا پورا وجود ہل جاتا ہے۔ اس کے بعد انسان کے اندر اپنی اصلاح کا جذبہ ہمالیائی اسپرٹ کے ساتھ جاگ اٹھتا ہے۔ اس کے بعد انسان کے اندر ایک نیا عمل (process) جاری ہوتا ہے، جو اس کی پوری شخصیت کو ایک نئی شخصیت بنا دیتا ہے۔

اس قسم کی توبہ اپنے آپ میں ایک اعلیٰ درجے کا عمل ہے۔ ایسی توبہ انسان کو پہلے سے بھی زیادہ قابل قدر بنا دیتی ہے۔ اس کے بعد انسان کی سوچ ، اس کا بولنا ، اور اس کا کردار سب ایک نئے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ اس کے بعد انسان کے اندر ایک نئی شخصیت ایمرج (emerge) کرتی ہے۔ اس کے بعد انسان کے ذہنی ارتقا (intellectual development) میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اب اس کا ذکرِ اعلیٰ ذکر بن جاتا ہے۔ اب اس کی دعا ء اعلیٰ دعاء بن جاتی ہے۔ اب اس کا شکر اعلیٰ شکر بن جاتا ہے۔ اب اس کے اندر ایک تخلیقی شخصیت (creative personality) جاگتی ہے۔ اس قسم کی توبہ جب کسی انسان کو حاصل ہو جائے تو وہ پہلے سے بھی زیادہ رب العالمین کے لیے قابل قبول انسان بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues

Printed page