Al-Risala · September 2017 · page 13

شخصیت انسانی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۳

شخصیت انسانی

قرآن کی ایک آیت وہ ہے جس کو آیت امانت کہا جاتا ہے۔ یہاں اس سلسلے کی دو آیتوں کا ترجمہ دیا جاتا ہے : ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ تا کہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے۔ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کی توبہ قبول فرمائے۔ اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ (الاحزاب: 73-72)

اس آیت میں انسان کی خصوصی تخلیق کے معاملے کو بتایا گیا ہے۔ امانت کا لفظی مطلب ٹرسٹ (trust) ہے۔ اس کائنات میں اللہ کا مل معنوں میں اختیار رکھتا ہے، اختیار میں کوئی اللہ کا شریک نہیں۔ اس اختیار کا ایک بہت چھوٹا حصہ انسان کو خصوصی طور پر دیا گیا ہے۔ انسان کو یہ اختیار بطور حق نہیں دیا گیا ہے، بلکہ وہ انسان کو بطور ذمہ داری دیا گیا ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اختیار کے باوجود اپنے آپ کو بے اختیار بنالے، وہ خود عائد کردہ پابندی (self-imposed discipline) کا نمونہ بنے۔ یہی اس دنیا میں انسان کا ٹیسٹ ہے، اور اسی ٹیسٹ میں پورا اترنے پر انسان کے لیے جنت مقدر کی گئی ہے۔

امانت کا یہ معاملہ ایک بے حد نازک معاملہ تھا۔ اسی لیے زمین و آسمان اس کا حامل بننے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ انھوں نے زبان حال سے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد یہ ذمہ داری خالق کی طرف سے انسان کو عطا ہوئی۔ تاہم یہ ایک بے حد نازک ذمہ داری تھی، کیوں کہ عملاً یہ بے حد مشکل تھا کہ انسان کامل معنوں میں اس ذمہ داری پر پورا اترے۔ خالق نے اس معاملے میں رعایت کا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے یہ فیصلہ فرمایا کہ جو انسان توبہ کا ثبوت دے اس کے ساتھ خالق خصوصی رحمت کا معاملہ فرمائے گا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک

‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues

Printed page