اسلامی حکومت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۶
مسلمانو! تمھارا مشن یہ ہے کہ تم اسلام کی بنیاد پر سیاسی انقلاب لاؤ یا حکومت قائم کرو۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیاست کے معاملے میں اسلام کا نشانہ کوئی مخصوص نظامِ حکومت قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ سیاست کے معاملے میں اسلام کا اصل نشانہ صرف تمکین فی الارض (الحج:41) ہے۔ تمکین سے مراد وہی چیز ہے جس کو دوسرے الفاظ میں سیاسی استحکام (political stability) کہا جاتا ہے۔ سیاسی نظام فارم کے اعتبار سے جو بھی ہو، اگر اس کے ذریعے سیاسی استحکام قائم ہو جائے تو اہل اسلام کے لیے وہ قابلِ قبول ہوگا۔ خواہ بظاہر اس کی عملی صورت جو بھی ہو۔
سیاست کے بارے میں اس تصور کا ایک ثبوت یہ ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد جو نظام حکومت قائم ہوا، وہ فارم کے اعتبار سے کوئی واحد سیاسی فارم پر مبنی نظام نہ تھا۔ خلیفہ اول کی تقرری ایک محدود شورائی اصول کے مطابق ہوئی۔ خلیفہ ثانی کی تقرری نامزدگی (nomination) کے اصول پر ہوئی۔ خلیفہ ثالث کی تقرری ایک بورڈ کے ذریعہ انجام پائی۔ خلیفہ چہارم کی تقرری کسی متفق علیہ اصول کی بنیاد پر نہیں ہوئی، اسی لیے بہت جلد بغاوت کی صورت پیدا ہو گئی۔ عمر بن عبدالعزیز کو اگر خلیفہ پنجم مانا جائے تو ان کی تقرری وقت کے سلطان (سلیمان بن عبد الملک) کی وصیت کے مطابق ہوئی، جو بوقتِ وفات ایک لفافے میں بند کر دی گئی تھی۔
وہ دور جس کو خلافتِ راشدہ کہا جاتا ہے۔ وہ تقریباً تیس سال قائم رہا۔ اس کے بعد مسلم دنیا میں خاندانی حکومت (dynasty) قائم ہو گئی۔ جو اگلے ہزار سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ خاندانی حکومت کا یہ نظام جو بلاشبہ شورائی ماڈل (الشورٰی:38) کے مطابق نہ تھا، لیکن اس دور کے تمام علماء نے اس خاندانی نظام کو عملاً تسلیم کر لیا۔ حتی کہ تمام علماء کے اتفاقِ رائے سے یہ مسئلہ بن گیا کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنا حرام ہے۔ خواہ وہ کسی کے نزدیک بظاہر حکومت فاسقہ“ کیوں نہ ہو۔ صحیح مسلم کے شارح امام النووی نے اپنے زمانے کے علماء کے متفقہ موقف کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: و أما الخروج عليهم وقتالهم فحرام بإجماع المسلمين وإن كانوا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues