Al-Risala · September 2017 · page 17

اسلامی حکومت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۷

فسقۃ ظالمین (شرح النووی علی صحیح مسلم، بیروت، 1392ھ، 12/229)۔ یعنی اور جہاں تک ان کے خلاف خروج یا ان سے قتال کا معاملہ ہے وہ مسلمانوں کے اجماع سے حرام ہے۔ خواہ (بظاہر) وہ فاسق اور ظالم کیوں نہ ہوں۔

تسلیم کرنے والے اس گروہ میں صحابہ، تابعین، اور تبع تابعین بھی شامل تھے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خاندانی حکومت کا نظام اگر چہ شورائی ماڈل کے مطابق نہ تھا۔ لیکن اس کے ذریعے مطلوب سیاسی استحکام حاصل ہو رہا تھا۔ اس کے ذریعے امن کی حالت قائم ہوگئی اور یہ ممکن ہو گیا کہ اس کے تحت ہر قسم کی دینی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکیں۔

اس معاملے میں علماء کے اس متفق علیہ مسلک کا سبب کیا تھا۔ یہ سبب پریفیکل وزڈم کے اصول پر قائم تھا۔ یعنی زیادہ بڑی برائی (greater evil) سے بچنے کے لیے چھوٹی برائی (lesser evil) پر راضی ہو جانا۔ اسی حقیقت کو فقہاء اھون البلیتین کی اصطلاح میں بیان کرتے ہیں۔ یعنی بڑی مصیبت سے بچنے کے لیے چھوٹی مصیبت پر راضی ہو جانا۔

مگر اسلامی حکومت کے مبتدعانہ تصور نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو اتنا بڑا نقصان پہنچایا کہ اتنا بڑا نقصان اسلام کی پوری تاریخ میں شاید کسی نظریہ نے نہیں پہنچایا۔ اسلامی حکومت کے اس خود ساختہ تصور کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمانوں کا دینی نشانہ بدل گیا۔ قرآن وسنت کے مطابق، اہل اسلام کا دینی نشانہ اصلاً صرف ایک تھا، تزکیہ ذات (self purification)۔ لیکن اس نام نہاد انقلابی نظریہ نے اس کے بجائے مسلمانوں کو یہ نشانہ دے دیا کہ وہ سیاسی حکمرانوں سے لڑکر ان سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں۔ اور پھر اقتدار کے منصب پر قبضہ کرکے اپنے مفروضہ نظام کو عملاً قائم کریں۔ اس کا معکوس نتیجہ فطری طور پر یہ ہوا کہ اقتدار کی سیٹ پر قبضہ تو نہ ہوسکا، البتہ مختلف قسم کی برائیاں مسلم معاشرے میں پھیل گئیں۔ مثلا دینی نشانہ کا بدل جانا، مسلم امت کا دو متحارب گروہوں میں تقسیم ہو جانا، اسلام کی پر امن تصویر کے بجائے، پر تشدد تصویر (violent image) کا بن جانا، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues

Printed page