اسلامی حکومت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۸
مزید یہ کہ اس نام نہاد سیاسی تشریح کو قرآن سے ثابت کرنے کی لیے قرآن کے سنجیدہ مطالعہ کا مزاج ختم ہوگیا۔ اب مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر غلط ذہن عام ہوگیا ہے۔ وہ قرآن کی آزادانہ تفسیر کو درست تفسیر سمجھنے لگے۔ قرآن میں طاغوت شیطان کے معنی میں استعمال ہوا تھا، اس کو سیاسی لیر کے معنی میں لیا جانے لگا۔ قرآن میں حکم کا لفظ فوق الطبیعی اقتدار ( super-natural power) کے معنی میں استعمال ہوا تھا۔ اب اس کو سیاسی اقتدار(political power) کے معنی میں لے لیا گیا۔ قرآن میں دین کا لفظ مذہب کے معنی میں استعمال ہوا تھا، اس کو اسٹیٹ کے معنی میں لے لیا گیا، وغیرہ۔
☆☆☆☆☆☆☆
اخوان المسلمون کی تحریک کو مصر اور دوسرے عرب ملکوں میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ اخوانی تحریک کے مختلف شعبے تھے ۔ ان میں سے ایک فوجی شعبہ تھا جس کو جناح عسکری کہا جاتا تھا۔ اخوان کے جناح عسکری کے سربراہ حسن دوح(Hasan Dawh) تھے ۔
موجودہ زمانہ میں جو اسلامی تحریکیں اٹھیں، ان سب کا یہی حال رہا ہے۔ کسی میں جناح عسکری عملاً قائم تھا، اور کسی میں صرف ذہنی طور پر وہ پایا جاتا تھا۔ تحریکوں کی اس عسکریت کا سبب یہ ہے کہ وہ دشمنان اسلام“ کے ردعمل میں اٹھیں ۔ کوئی یہودیوں کے خلاف، کوئی انگریزوں کے خلاف، کوئی فرانسیسیوں کے خلاف۔ یہی وجہ ہے کہ ان سب میں مشترک طور پر نفرت اور تشدد کا ذہن پایا جاتا ہے۔
موجودہ زمانہ کی ان تحریکوں میں سے کوئی تحریک ” جناح دعوتی نہ تھا۔ اگر یہ تحریک حقیقی معنوں میں دعوتی محرک کے طور پر اٹھتیں تو نہ صرف ان کے یہاں جناح دعوتی موجود ہوتا بلکہ ان کے یہاں دعوت ہی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہوتی۔ اور پھر ان کا مزاج نفرت اور تشدد کے بجائے محبت اور امن کا بنتا۔ دعوت کا کام دلوں کو جیت کر اور ڈ ذہنوں کو مطمئن کرکے ہوتا ہے، اس لیے داعی کے اندر دوسروں سے محبت اور خیر خواہی کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ (ڈائری ، 1983)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues