مادی کائنات، انسانی تاریخ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۲
جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاسکتا ہے۔
جدید تہذیب کیا ہے۔ جدید تہذیب اصلا یہ ہے کہ فطرت کے اندر چھپے ہوئے رازوں کو دریافت کرنا اور انسانی تاریخ کو روایتی دور سے نکال کر ٹیکنالوجی کے دور تک پہنچانا۔ تہذیب کا یہ دور بظاہر مادی ترقی کا دور ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ یہ ہے کہ خدا کے دین کو عالمی دعوت کے دور میں پہنچایا جائے۔ اس لحاظ سے جدید تہذیب موافق اسلام تہذیب ہے۔ جدید تہذیب اور اسلام میں کوئی حقیقی ٹکراؤ نہیں۔
اس دور تہذیب کا آغاز رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعہ شروع ہوا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ فطرت (nature) جو ہزاروں سال سے پرستش کا موضوع (object of worship) بنی ہوئی تھی، وہ پہلی بار تسخیر کا موضوع (object of investigation) بن گئی۔ یہ انسانی تاریخ میں ایک انقلابی تبدیلی کا معاملہ تھا۔ اس عمل کا آغاز رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعہ عرب میں ہوا۔ اور پھر ترقی کرتے ہوئے وہ مغرب (West) میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔
فطرت کی پرستش کے بجائے فطرت کو تسخیر کرو۔ یہ اصول پہلی بار قرآن میں بتایا گیا۔ تسخیر کا مادہ قرآن میں 9 بار استعمال ہوا ہے۔ مگر دوسرے الفاظ میں قرآن میں بار بار یہ بات کہی گئی ہے کہ غور فکر کرکے حقائقِ فطرت کو دریافت کرو۔ اس طرح اسلام نے انسانی تاریخ میں پہلی بار سائنسی غور و فکر (scientific exploration) کا آغاز کیا۔ یہ عمل پہلے ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں شروع ہوا۔ اس کے بعد بتدریج مغربی دنیا تک پہنچا۔
اس سائنسی عمل (scientific process) کا آغاز مسلمانوں نے کیا۔ وہ مکہ سے شروع ہوا۔ پھر وہ مدینہ اور دمشق پہنچا۔ پھر بغداد اور اندلس اس کا سینٹر بنے۔ پندرہویں صدی میں اندلس کی مسلم حکومت ختم ہونے کے بعد مسلم دنیا میں یہ پر اس عملًا موقوف ہوگیا۔ اس خاتمہ کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان اس قربانی (sacrifice) کا ثبوت نہ دے سکے جو اس عمل کے مزید تسلسل کے لیے ضروری تھا۔ اس قربانی کا ثبوت مسیحی قوموں نے دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues