Al-Risala · September 2017 · page 23

مادی کائنات، انسانی تاریخ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۳

اس بنا پر اس عمل کے دو دور بن گئے۔ پہلے دور میں مسلم قوموں نے اس میں اپنا رول ادا کیا۔ دوسرے دور میں مسیحی قوموں نے اس کام کو آگے بڑھایا، اور اس کو تکمیل کی حد تک پہنچایا۔ اس قربانی سے مراد جان کی قربانی نہیں تھی بلکہ ایک لفظ میں نئی منصوبہ بندی (replanning) کا راستہ ہے۔ یعنی جب ایک طریقہ کار مؤثر نہ ہو رہا ہو تو پیچھے ہٹ کر دوسرا طریقہ اختیار کرنا۔ قدیم زمانے میں صلیبی جنگوں (Crusades) کا واقعہ پیش آیا۔ یہ مسلم قوموں اور مسیحی قوموں کے درمیان طویل جنگ کا ایک سلسلہ تھا۔ اس کا آغاز 11 ویں صدی عیسوی میں ہوا، اور خاتمہ 16 ویں صدی عیسوی میں ہوا۔ مورخین کے بیان کے مطابق اس جنگ میں مسیحی قوموں کو ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) ہوئی۔

اس شکست کے بعد مسیحی قوموں نے ایک قابل تقلید کام کیا۔ انھوں نے اس کے بعد منفی رد عمل (negative reaction) کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ یہ کیا کہ شکست کو بھلا کر اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی (replanning) کی۔ اس نئی پلاننگ کو روحانی صلیبی جنگ (spiritual crusades) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک لمبا عمل تھا۔ جس کا آخری نتیجہ یہ نکلا کہ انھوں نے تاریخ میں پہلی بار تہذیب (civilization) کا ایک نیا دور پیدا کیا۔

مغربی تہذیب کوئی انتقامی تہذیب نہ تھی۔ وہ کسی کے خلاف انتقامی جذبے کے تحت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ مغربی تہذیب کا وجود اس طرح ہوا کہ مغربی قوموں نے جنگ کے میدان کو چھوڑ کر فطرت کے میدان میں اپنا مثبت عمل شروع کیا۔ انھوں نے نیچر میں چھپے ہوئے قوانین کو دریافت کیا، جس کے نتیجے میں جدید سائنس وجود میں آئی۔ جدید ٹکنالوجی کی دریافت ہوئی۔ جدید صنعت ظہور میں آئی۔ دنیا کو جدید سامان حیات کا تحفہ ملا۔ دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا، جب کہ تشدد کا طریقہ ایک بے نتیجہ طریقہ قرار پایا۔ اس کے برعکس، امن کا طریقہ زیادہ مؤثر طریقہ کار کے طور پر ظہور میں آیا۔ تاہم مسلمان اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے اس بنا پر وہ غیر دانش مندانہ طور پر مغربی تہذیب کو اپنانے کے بجائے اس کے خلاف ہو گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues

Printed page