Al-Risala · September 2017 · page 27

اللہ کی مدد

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۷

ایک طرف عالمی سطح پر مذہبی آزادی کو انسان کا مطلق حق مان لیا گیا ہے، اور دوسری طرف اسلامی دعوت کو پھیلانے کے اتنے زیادہ مواقع پیدا ہوئے ہیں، جس کو مواقع کا انفجار (opportunity explosion) کہا جا سکتا ہے۔

اب دوبارہ ضرورت ہے کہ اہل ایمان اللہ کی نصرت کریں۔ اس نصرت کی صورت یہ ہے کہ امت مسلمہ دوسری قوموں کے ساتھ اپنے تمام نزاعات کو یک طرفہ طور پر ختم کر دے، اور اپنی ساری توجہ صرف ایک نکتے پر لگادے۔ یعنی پیدا شدہ مواقع کو پر امن طور پر دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کرنا۔ اس طرح اہل ایمان اللہ کے پیدا کردہ تاریخی پراسس میں اپنا حصہ ادا کریں گے۔ ایسا کرنا امت مسلمہ کو نصرت الہی کا یقینی مستحق بنا دے گا، اور پھر دوبارہ ان کو وہ کامیابی حاصل ہوگی جس کو قرآن میں فتح مبین (الفتح: 1) کہا گیا ہے۔

فتح مبین کی اس الہی نصرت کو حاصل کرنے کی صرف ایک شرط ہے، اور وہ یہ کہ اہل اسلام اس پورے معاملے کو قومی نقطہ نظر سے نہ دیکھیں، بلکہ خالص دعوتی نقطہ نظر سے دیکھیں۔ یہ فطرت کا اصول ہے کہ قومی تعلقات میں ہمیشہ ایسے حالات پیش آتے ہیں، جو بظاہر کسی قوم کے خلاف دکھائی دیتے ہیں۔ تو قوم ان حالات کو اپنے خلاف ظلم سمجھ لیتی ہے، اور پھر اس کے نتیجے میں اس قوم کے اندر منفی سوچ پیدا ہو جاتی ہے۔ منفی سوچ قوم کو اس کے لیے نااہل بنا دیتی ہے کہ وہ حالات کے مثبت پہلو کو دریافت کرے، اور ان کو استعمال کرتے ہوئے اپنے معاملے کی منصوبہ بندی مثبت انداز میں کرے۔ یہی منفی ذہن قوموں کے لیے تعمیر میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا ہے۔ انھوں نے فطری حالات کو مفروضہ طور پر اپنے خلاف سمجھ لیا، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے آپ کو مظلوم سمجھنے لگے۔ مظلومیت کے احساس کی مسلمانوں کو بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑی۔ وہ یہ ہے کہ اس احساس مظلومیت نے مسلمانوں کو اس بات کے لیے نااہل بنا دیا ہے کہ وہ تاریخ کے مثبت پہلو کو سمجھیں، اور اس میں اپنا حصہ ادا کرتے ہوئے اللہ کی نصرت کے مستحق بنیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues

Printed page