مصیبت کا مثبت پہلو
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۸
مصیبت کا مثبت پہلو
ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں آئی ہے: ما دعا اللہ المؤمن بدعوۃ الا وکل بحاجتہ جبریل فیقول: لا تعجل بإجابتہ فإني أحب أن أسمع صوت عبدي المؤمن (حلیۃ الاولیاء، 8- 2/327)۔ یعنی جب کوئی بندہ اللہ کو پکارتا ہے، تو جبریل فرشتہ کو اس کی حاجت برآری کے لیے مقرر کر دیا جاتا ہے، اور اللہ کہتا ہے کہ (اے جبریل) اس کی حاجت کو پورا کرنے میں جلدی نہ کر، کیوں کہ مجھے یہ محبوب ہے کہ میں مومن بندے کی آواز کو سنوں۔ اللہ ایک مومن بندہ کی صوت (آواز) کو کیوں پسند کرتا ہے۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ اس کی صوت میں کوئی نغمہ (melody) ہوتا ہے۔ بلکہ اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی بندہ مصیبت کے وقت اللہ کو پکارتا ہے تو اس سے اس کی روحانی ارتقا (spiritual development) میں اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ روحانی ارتقا پسند ہے، نہ کہ صوت کا نغمہ۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اوپر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کی حساسیت (sensitivity) کو بڑھاتی ہے۔ حساسیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی قوت اخذ (grasp) بڑھ جاتی ہے۔ اس بنا پر ایسا آدمی، اگر وہ منفی سوچ میں مبتلا نہ ہو تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے تجربے سے زیادہ سے زیادہ سبق لے، وہ چیزوں میں چھپی حکمت کو زیادہ سے زیادہ دریافت کر سکے۔ مصیبت حساسیت کو بڑھاتی ہے، اور حساسیت آدمی کی قوت اخذ میں اضافہ کرتی ہے، اور قوت اخذ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے آدمی کی معرفت کو بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ مصیبت بجائے خود کوئی مطلوب چیز نہیں، مگر اس کا نتیجہ (result) اس کو مطلوب بنا دیتا ہے۔ معرفت جسمانی اعضاء کی طرح ایک تخلیقی عطیہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک خود دریافت کردہ چیز (self-discovered item) ہے، اور دریافت کا یہ عمل (process) ہمیشہ ناخوش گواری کے راستے سے گزرتا ہے۔ معرفت کے حصول کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues