Al-Risala · September 2017 · page 30

قتال فی سبیل اللہ، دعوت الی اللہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۰

قتال فی سبیل اللہ، دعوت الی اللہ

قتال فی سبیل اللہ کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو اللہ کی راہ میں قتال کریں (الصف: 4)۔ دعوت الی اللہ کے کام کے لیے کہیں یہ لفظ نہیں آیا ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کو محبوب رکھتا ہے۔ قرآن میں ایسے لوگوں کے لیے جو لفظ آیا ہے وہ قول احسن (فصلت: 33) ہے۔ خالص موضوعی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ فرق بہت قابل غور معلوم ہوتا ہے۔ کیوں کہ دعوت الی اللہ کا کام ایک ایجابی کام ہے۔ اس کے مقابلے میں قتال فی سبیل اللہ کا کام بظاہر ایک سلبی کام ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ کے نزدیک سلبی کام تو ایک محبوب کام ہو لیکن ایجابی کام محبوب کام نہ ہو۔ اللہ کے نزدیک یہ محبوب ہو کہ انسانوں کو جنگ کر کے قتل کر دیا جائے، اور یہ محبوب نہ ہو کہ انسان کے اندر اللہ رب العالمین کی معرفت پیدا کی جائے تا کہ وہ جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے۔ اس معاملے میں بداہتہً اصل حقیقت یہی ہے۔

مزید یہ کہ اگر اس نقطہ نظر سے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو دعوت الی اللہ کا کام رسول اللہ کے عہد کے بعد بظاہر ایک مسنگ آئٹم (missing item) نظر آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں قتل و قتال کا کام اتنا زیادہ عام ہے کہ اسلام کی پوری تاریخ میں پھیلا ہوا ہے، اور آج تک جاری ہے۔ یہ اسلام کی تاریخ کا بہت بڑا سوال ہے۔ اس سوال کا گہرا تعلق احیاء اسلام سے ہے۔ راقم الحروف کے نزدیک دعوت الی اللہ کا کام بلاشبہ قتال فی سبیل اللہ کے کام سے زیادہ بڑا ہے۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ قتال فی سبیل اللہ کے کام کی اہمیت نص کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں دعوت الی اللہ کے کام کی اہمیت اجتہاد کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ساتویں صدی عیسوی میں عملاً سب سے بڑا کام یہ تھا کہ دنیا سے فتنہ (البقرۃ: 193) کا خاتمہ کیا جائے، یعنی مذہبی جبر (religious persecution) کا خاتمہ۔

ہزاروں سال کے اندر یہ فتنہ اتنا زیادہ جڑ پکڑ چکا تھا کہ شدید قتال کے بغیر اس کا خاتمہ نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues

Printed page