Al-Risala · September 2017 · page 31

قتال فی سبیل اللہ، دعوت الی اللہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۱

ہو سکتا تھا۔ اس لیے ضرورت تھی کہ اس وقت قتال تاختم فتنہ پر بہت زیادہ زور دیا جائے تا کہ فوکس ہٹنے نہ پائے۔ لیکن اب جب کہ فتنہ کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ بذریعہ اجتہاد یہ معلوم کیا جائے کہ اللہ کا مطلوب ایجابی کام کیا ہے۔ جب سلبی کام کی ضرورت باقی نہ رہے۔ تو اس کے بعد اپنے آپ ایجابی کام نمبر ایک کام بن جاتا ہے۔ اب جب کہ دعوت الی اللہ کے کام کے لیے تمام دروازے کھل چکے ہیں تو اب ہمیں بذریعہ اجتہاد یہ معلوم کرنا ہے کہ اب ساری اہمیت دعوت الی اللہ کی ہے۔ قدیم زمانے میں قتال برائے ختم فتنہ اور دعوت الی اللہ دونوں کام ساتھ ساتھ کرنا پڑتا تھا۔ اب قتال برائے ختم فتنہ کا حکم عملاً موقوف ہو چکا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ پوری طاقت صرف ایک کام میں لگادی جائے۔ یعنی دعوت الی اللہ کے کام میں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو قرآن میں قتال پر محبت ماہیت کے اعتبار سے نہیں ہے۔ بلکہ ضرورت کے اعتبار سے ہے۔ تا کہ لوگوں میں شوق پیدا ہو، اور فوکس ہٹنے نہ پائے۔

غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ نے یہ دعا کی تھی: تھی:اللہم إنك إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام، فلا تعبد في الأرض أبدا ( مسند احمد ، حدیث نمبر (208) ۔ یعنی اے اللہ اگر تو اہل اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کر دے، تو زمین میں پھر کبھی تیری عبادت نہ ہوگی۔ پیغمبر کی اس دعا کو اس کے پس منظر کے حوالے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ مذہبی تشدد کا نظام حکومت کی تائید سے بے حد پختہ ہو چکا تھا۔ یہ نظام صرف بزور طاقت ختم ہو سکتا تھا۔ اس جابرانہ نظام کو ختم کرنے کے لیے ایک جانباز گروہ درکار تھا۔ اصحاب رسول یہی جانباز گروہ تھے، جو لمبی مدت کے اندر تیار کیے گئے تھے۔ عملی اعتبار سے یہ ناؤ آرنیور (now or never) کا معاملہ بن گیا تھا۔ اگر اس گروہ کو استعمال کر کے کے جبر کے نظام کو ختم نہ کیا جاتا تو بظاہر وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں تھا۔ رسول اللہ کی دعا کا مطلب یہ تھا کہ اس تاریخی موقع کو ہر حال میں استعمال کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ موقع کھویا گیا تو بظاہر دوبارہ ایسا موقع ملنے والا نہیں۔ اس وقت شفٹ آف ایمفاسیس (shift of emphasis) کے طور پر جنگ پر زور دیا گیا، نہ کہ ابدی اصول کے طور پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues

Printed page