Al-Risala · September 2017 · page 34

عمومی تائید کا دور

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۴

صرف اپنے وسائل کے دائرے میں اپنا مشن چلائیں ، بلکہ ہر اسٹیج اور ہر پلیٹ فارم آپ کے لیے کھلا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ دوسرے لوگ انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کریں، تو وہ آپ کو دعوت دیں گے کہ آپ وہاں آئیں، اور ان کے اسٹیج سے پرامن انداز میں اپنے مشن کا تعارف پیش کریں۔ قدیم زمانے میں مسلم حکومتوں میں غیر مسلموں پر جزیہ (tribute) عائد کیا گیا تھا۔ یہ زمانی حالات کے مطابق تھا۔ کچھ غیر مسلم مصنفین نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ یہ ایک امتیازی ٹیکس (discriminatory tax) ہے۔ مسلم مصنفین نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ امتیازی ٹیکس نہیں ہے، بلکہ وہ حفاظتی ٹیکس (protective tax) ہے۔ تاہم اس طرح کے جوابات کے باوجود دوسرے حضرات کا اعتراض ختم نہیں ہوا۔ موجودہ زمانے میں جزیہ کے نام پر علاحدہ ٹیکس عائد کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب نئے حالات کے مطابق، یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ٹیکس تو سب کے لیے ایک ہی ہو ٹیکس کے معاملے میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہ ہو۔ البتہ ایک اور اصول کو اختیار کرتے ہوئے، اس مقصد کو زیادہ بڑے پیمانے پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔

موجودہ زمانے میں ایک نیا تصور بڑے پیمانے پر وجود میں آیا ہے۔ اس کو آؤٹ سورسنگ (outsourcing) کہا جاتا ہے۔ آؤٹ سورسنگ کا طریقہ اس معاملہ کا نعم البدل ہے۔ آؤٹ سورسنگ کا طریقہ 1981ء میں امریکا سے شروع ہوا۔ موجودہ حالات میں یہ طریقہ تجارتی امور میں استعمال کیا جاتا ہے :

Outsourcing is a practice in which an individual or company performs tasks, provides services or manufactures products for another company. موجودہ زمانے میں آؤٹ سورسنگ کا طریقہ زیادہ تر اقتصادی معاملے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلام ایک دعوتی مذہب ہے۔ اہلِ اسلام اس طریقہ کو دعوت کے لیے اس طرح استعمال کر سکتے ہیں کہ وہ دوسرے اداروں اور دوسروں کے اجتماعات کو اپنے پیغام کی پرامن اشاعت کے لیے بطور دعوہ آپر چونٹی آویل (avail) کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues

Printed page