عمومی تائید کا دور
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۳
اس واقعہ کا دوسرا پہلو حدیث میں پیشین گوئی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ان اللہ جل وعز ليؤيد الإسلام برجال ما هم من أهله (المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد غیر اہل دین کے ذریعہ کرے گا۔
اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، اس کا ایک منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ تھا کہ دنیا میں تائید کلچر کو وجود میں لانا۔ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں جس ڈائیکاٹومی (dichotomy) کا رواج تھا۔ وہ تھا، دوست اور دشمن کی ڈائیکاٹومی۔ اللہ نے انسانی تاریخ میں ایسے اسباب پیدا کیے کہ انسانوں کے درمیان ایک نئی ڈائیکاٹومی وجود میں آگئی۔ وہ تھی، دوست اور موید (supporter) کی ڈائیکاٹومی۔ یعنی جو لوگ دوست تھے، وہ تو دوست تھے۔ اور جو لوگ دوست نہ تھے، وہ عملاً موید (supporter) بن گئے۔ یہ تبدیلی اس طرح آئی کہ جمہوریت (democracy) اور ٹکنالوجی کے ذریعہ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ ہر آدمی کا مفاد دوسرے آدمی کے ساتھ جڑ گیا۔ پولیٹکل لیڈر کا انٹرسٹ ووٹر سے، اور ووٹر کا انٹرسٹ پولیٹکل لیڈر سے۔ بزنس مین کا انٹرسٹ کسٹمر سے اور کسٹمر کا انٹرسٹ بزنس مین سے۔ ٹیچر کا انٹرسٹ اسٹوڈنٹس سے، اور اسٹوڈنٹس کا انٹرسٹ ٹیچر سے، وغیرہ۔
اس طرح دنیا میں ایک نیا باہمی انحصار کا کلچر (interdependent culture) وجود میں آیا۔ اب ایک نیا جبر (compulsion) پیدا ہوا۔ جس کے تحت لوگوں کے لیے ضروری ہو گیا کہ وہ دشمن کی اصطلاح میں سوچنا چھوڑ دیں۔ وہ تمام انسانوں کو یا تو دوست کے روپ میں دیکھیں یا موید کے روپ میں۔ اس کی ایک صورت وہ ہے جس کو موجودہ زمانے میں آؤٹ سورسنگ (outsourcing) کہا جاتا ہے۔
اس کلچر کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ ساری دنیا میں کھلے پن (openness) کا دور آگیا۔ اب اپنے اور غیر کا فرق ختم ہو گیا۔ مثلاً آپ اگر دعوت توحید کا مشن چلا رہے ہیں تو ضروری نہیں ہوگا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues