پیغمبر اسلام کا مشن
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۸
اور اس کی نسیمِ بهار کی طرح روح افزا حشر خیزیوں کے ساتھ جماعت نے پیغمبر اسلام کی اجازت سے حجاز سے حبش کی طرف ہجرت کی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: لو خرجتم إلى أرض الحبشة؟ فإن بها ملكا لا يظلم عنده أحد، وهي - أرض صدق - حتى يجعل الله لكم فرجا مما أنتم فيه (البداية والنهاية، دارالفكر، 1986، 3/66)۔ تم لوگ حبش کے ملک میں چلے جاؤ۔ کیوں کہ وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ملک میں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا۔ وہ سچائی کی زمین ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تمھارے لیے گنجائش کی صورت پیدا کردے۔
رسول اللہ کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر غیر مسلم حکومت میں بھی اہل ایمان کو امن حاصل ہو تو وہ حکومت بھی اہل ایمان کے لیے قابل قبول حکومت ہوگی۔
☆☆☆☆☆☆☆
شیخ الہندؒ، مولانا محمد قاسمؒ کے اوراکِ کمال کے وہ معنیٰ، برجس کا خلاصہ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کا ایک وعظ ہے جس کا خلاصہ یہ ہے: ’’میرے نزدیک آج کل کے جھگڑے اور فساد کی بنیاد یہ ہے کہ ہر شخص سوا سیر بننا چاہتا ہے، کوئی شخص سیر بن کر رہنا نہیں چاہتا۔ اگر خود کو سیر اور دوسروں کو سوا سیر سمجھے کا جذبہ پیدا ہو جائے تو آج ہی یہ سارے جھگڑے اور فساد ختم ہو جائیں۔ “ (صحبتِ با اہل دل )
یہ نہایت صحیح بات ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سارے جھگڑوں کی جڑ لوگوں کا یہی جذبہ ہے ۔ کوئی شخص یہ نہیں سوچتا کہ بس چند دن کی زندگی تک یہ سارے جھگڑے ہیں ، اسکے بعد انسان ہوگا اور اس کا خدا ہوگا ۔ پھر نہ تو کوئی سیر ہوگا، اور نہ کوئی سوا سیر۔ آہ، انسان آج سیر بن کر رہنے پر راضی نہیں۔ حالاں کہ اس پر وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ سیر بن کر رہے گا اور نہ سوا سیر ۔ اگر لوگ جان لیں کہ بالآخر وہ کچھ بھی نہ رہیں گے تو وہ خود ہی سیر بننے پر راضی ہو جائیں اور پھر تمام جھگڑے بھی اچانک ختم ہو جائیں ۔ (ڈائری ، 1983)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues