قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۹
قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت
امت مسلمہ کی سیاسی تاریخ کا یہ ایک معلوم واقعہ ہے کہ تقریباً تمام علماء نے اس پر اتفاق کر لیا کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنا جائز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے تقریباً تیس سال بعد خاندانی حکومت (dynasty) قائم ہوگئی۔ یہ خاندانی حکومت بنوامیہ سے شروع ہوئی اور عثمانی ترکوں کی خلافت قائم رہی۔ لیکن علمائے امت نے کبھی اس کے خلاف خروج (بغاوت) نہیں کیا۔ اس سے اسلام کا یہ سیاسی اصول معلوم ہوتا ہے کہ اگر قائم شدہ حکومت بظاہر لوگوں کو غلط حکومت معلوم ہوتی ہو تو ان کے لیے اس کے خلاف بغاوت کا آپشن نہیں ہے، بلکہ صرف ایک آپشن ہے، اور وہ ہے نصیحت۔ یعنی حاکم کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرنے کے بجائے، خیر خواہانہ نصیحت کے ذریعے اس کی اصلاح کی کوشش کرنا۔
اس معاملے کی ایک جزئی مثال یہ ہے کہ بنوامیہ کا حکمران سلیمان بن عبدالملک اپنے بیٹے کو اپنے بعد حکومت کے لیے نامزد کرنا چاہتا تھا، جو بظاہر اچھا انتخاب نہ تھا۔ اس کے زمانے کے ایک عالم رجاء ابن حیوہ نے سلیمان بن عبدالملک کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلائی۔ بلکہ خاموش نصیحت کے ذریعے اس کے ذہن کو بدلنے کی کوشش کی۔ ان کی یہ کوشش کامیاب رہی۔ چناں چہ سلیمان بن عبدالملک نے ایک باقاعدہ تحریر کے ذریعے یہ وصیت کی کہ اس کے بعد اس کے بیٹے کے بجائے عمر بن عبدالعزیز کو ان کی جگہ حاکم بنایا جائے، جو کہ مسلمہ طور پر سلیمان کے بیٹے سے زیادہ اہل تھے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ کچھ علماء نے ظالم حکمران کے خلاف بغاوت کو جائز قرار دیا تھا۔ لیکن بعد کو تجربے سے معلوم ہوا کہ اس قسم کی بغاوت کا نتیجہ شدید تر برائی (greater evil) کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس عملی نتیجہ کو دیکھنے کے بعد علماء کا اس پر اتفاق ہو گیا کہ کسی قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنا جائز نہیں۔ اس سلسلے میں یہاں ایک حوالہ نقل کیا جاتا ہے : (الحسن بن صالح) كان
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues