Al-Risala · September 2017 · page 42

قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۴۲

في سم الخياط وَ كَذٰلِكَ نَجْزِي المجرمين (7:40)۔ یعنی بے شک جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلا یا اور ان سے تکبر کیا، ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں نہ گھس جائے۔ اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا محال ہے۔ اسی طرح ان مستکبرین کا جنت میں داخل ہونا محال ہے۔ قرآن کی اس آیت میں حقیقہ عدم وقوع کا ذکر ہے نہ کہ وقوع کا۔

قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج کو حرام قرار دینا ایک عظیم حکمت پر مبنی ہے۔ وہ یہ کہ جب بھی کسی قائم شدہ حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی جائے تو ارباب حکومت لازماً ایسی کوشش کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے۔ وہ اس کے لیے ہر جوابی تدبیر اختیار کریں گے۔ اس کے نتیجے میں طرفین کے درمیان شدید ٹکراؤ شروع ہو جائے گا۔ یہ ٹکراؤ خونی ٹکراؤ تک پہنچ جائے گا۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں ہر قسم کی تباہی پیش آئے گی۔ گویا ٹکراؤ کرنے والوں کا اعلان تو یہ ہوگا کہ ہم اصلاح حکومت کے لیے ٹکراؤ کر رہے ہیں، لیکن باعتبار نتیجہ جو چیز سامنے آئے گی، وہ صرف فساد ہوگا، نہ کہ اصلاح۔

اسلام میں قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت (خروج) کو حرام قرار دینا صرف ایک منفی حکم نہیں ہے، بلکہ وہ مکمل طور پر ایک مثبت حکم ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح کے موقعے پر ایسے آپشن کو لیا جائے جو مزید تباہی سے پاک ہو، اور وہ ہے پرامن نصیحت کا طریقہ اختیار کرنا۔ ☆☆☆☆☆☆☆ اسلام ایک ایسے برتر خدا کا تصور دیتا ہے، جو سب سے بلند ہے۔ کسی سماج میں خدا کا تصور زندہ ہو تو یہ اس سماج کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کے بعد ایک شخص کے لیے ممکن ہو جا ہے کہ وہ خدا کا نام لے کر کسی ظالم کو ظلم سے باز رکھے۔ (ڈائری، 1983)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues

Printed page