Al-Risala · September 2017 · page 41

قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۴۱

تم امیر کی بات سنو، اور ان کی اطاعت کرو، خواہ وہ تمھاری پیٹھ پر کوڑے مارے اور تم سے تمھارا مال چھین لے، تم ان کی بات سنو، اور ان کی اطاعت کرو۔

اس طرح کی صریح ہدایت کے باوجود کیوں متعدد علماء نے قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت (خروج) کو شرعاً جائز قرار دے دیا۔ اس کا سبب ایک حدیث کی غلط تاویل تھی۔ وہ حدیث یہ ہے: صحابی عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ بایعنا على السمع والطاعة، في منشطنا ومكرهنا، وعسرنا ويسرنا وأثرة علينا، وأن لا ننازع الأمر أهله، إلا أن تروا كفرا بواحا، عندكم من الله فيه برهان (صحيح البخاری، حدیث نمبر 7056۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1709)۔ یعنی ہم نے اس بات پر بیعت کی کہ ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے، اپنی پسند میں بھی اور اپنی پسند کے خلاف بھی، مشکل میں اور آسانی میں، اور اس پر کہ دوسروں کو ہمارے اوپر ترجیح دی جائے، اور یہ کہ ہم اہل اقتدار سے نزاع نہیں کریں گے۔ الا یہ کہ تم کفر بواح (کھلا کھلاکفر) دیکھو، جس میں تمھارے پاس اللہ کی برہان (واضح دلیل) موجود ہو۔

اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ مذکورہ حدیث میں جو استثنا ہے وہ کفر بواح کا استثنا ہے، ظلم و جور کا استثنا نہیں ہے۔ ظلم و جور ایک عملی روش ہے اور کفر بواح ایک اعتقادی معاملہ ہے۔ دیگر احادیث سے یہ ثابت ہے کہ ظلم و جور پر ہر گز خروج جائز نہیں۔ حتی کہ ظالم کے خلاف پرامن مظاہرہ (peaceful demonstration) بھی جائز نہیں ہے۔ پرامن تدابیر کے ذریعے حکمراں کو اقتدار سے ہٹانا بھی یقینی طور پر نا جائز ہے۔ ظلم و جور کے معاملے میں صرف لسانی نصیحت جائز ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

حدیث میں کفر بواح پر خروج کا جو ذکر ہے، وہ بھی حقیقۃً مستثنیٰ نہیں۔ یہ دراصل وہی چیز ہے جس کو تعلیق بالمحال یا تعليق الشرط بالامر علی المحال کہتے ہیں۔ یعنی کسی معاملے کو ناممکن الوقوع امر پر منحصر کرنا۔ اس نوعیت کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: اِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues

Printed page