انجام کو دیکھ کر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۴۴
انجام کو دیکھ کر
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آٗئی ہے: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: بارك الله للمسلمين فيك، فخصني منك بخاصة خير، قال: مستوص أنت؟
أراه قال: ثلاثا، قال: نعم، قال: اجلس، إذا أردت أمرا فتدبر عاقبته، فإن كان خيرا فأمضه، وإن كان شرا فانت (الزهد والرقائق لابن المبارک، حدیث نمبر 41)۔ یعنی ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا: اللہ نے آپ سے مسلمانوں کو برکت دی ہے، تو آپ مجھ کو ایک خاص خیر کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے کہا: تم نصیحت پوچھ رہے ہو، یہ آپ نے تین مرتبہ کہا۔ اس آدمی نے کہا، ہاں۔ آپ نے کہا، بیٹھ جاؤ، جب تم کسی کام کا ارادہ کرو تو اس کے انجام پر غور کرو، اگر انجام بہتر ہو تو اس کو کرو، اور اگر انجام برا ہو تو اس سے رک جاؤ۔ یہ عمل کے بارے میں بلاشبہ ایک جامع نصیحت ہے۔ ہر آدمی کسی عمل کا نقشہ بناتا ہے۔ ہر آدمی کوئی اقدام کرتا ہے۔ یہ ایک عام کلچر ہے۔ آپ نے اس معاملے میں ایک بنیادی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ کام وہی کرو، جو ایک نتیجہ خیر کام ہو، جس سے کوئی مفید نتیجہ نکلنے والا ہو۔ اس کے برعکس، جس کام میں اقدام تو ہو لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ (positive result) نکلنے والا نہ ہو، اس سے اپنے آپ کو دور رکھو۔
انجام پر غور کرتے ہوئے کوئی کام کرنا، کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اپنے کام کو پلاننگ کے ساتھ انجام دیا جائے۔ کام کا صحیح طریقہ یہ نہیں ہے کہ ذہن میں کچھ خیال آیا، اور آپ نے فوراً اس پر عمل شروع کر دیا۔ کام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو کام سامنے آئے اس پر مختلف لوگوں سے مشورہ کیا جائے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو حدیث میں تانی (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 4058) کہا گیا ہے۔ یعنی اپنے وسائل کا اندازہ کیا جائے۔ پھر جو کام کیا جائے وہ نہ کمتر اندازہ (underestimation) کے ساتھ کیا جائے، اور نہ بر تر اندازہ (overestimation) کے ساتھ کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues