ہجر جمیل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۹
ہجر جمیل
قرآن کی سورہ المزمل میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيْلًا (73:10)۔ اُردو مترجمین نے اس آیت کے جو ترجمے کیے ہیں اُن میں سے چند یہاں نقل کیے جاتے ہیں :
1۔ اور سہتا رہ جو کہتے رہیں اور چھوڑ اُن کو بھلی طرح کا چھوڑ نا (شاہ عبد القادر) 2۔ اور یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں اُن پر صبر کرو اور خوبصورتی کے ساتھ اُن سے (اشرف علی تھانوی)
3۔ اور سہتا رہ جوکچھ وہ کہتے رہیں اور چھوڑ دے اُن کو بھلی طرح کا چھوڑ نا۔ (محمود حسن دیوبندی)
4۔ اور یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اُس پر صبر کر اور اُن کو خوبصورتی سے نظر انداز کر۔ (امین احسن اصلاحی)
5۔ اور یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے علیحدگی اختیار کیجئے۔ (عاشق الہی)
6۔ اور ان باتوں پر صبر کیے رہیے جو یہ لوگ کہتے ہیں، اور ان سے خوبصورتی کے (عبد الماجد دریابادی) ساتھ الگ ہو جائیے۔
7۔ اور اے پیغمبر آپ صبر کریں ان باتوں پر جو مخالفین کہتے ہیں اور آپ خوش اسلوبی کے ساتھ ان سے کنارہ کش ہوجائیں۔ (صوفی عبد الحمید سواتی)
اس آیت کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو وہ اس طرح ہو گا : Endure patiently whatever they say, and avoid them in a decent manner.
‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues