Al-Risala · October 2017 · page 10

ہجر جمیل

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۰

قرآن کی یہ آیت مکی دور میں اتری۔ اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ رسول اور اصحابِ رسول نے اُن کے آبائی دین سے انحراف کیا ہے۔ اس بنا پر وہ لوگ رسول اور اصحابِ رسول کو ستانے لگے۔ انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔ اس ماحول میں قرآن کی یہ آیت اُتری۔ اس میں خدا کی طرف سے یہ حکم دیا گیا کہ تم لوگ صبر کرو اور ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کرو۔

ہجر جمیل کے لفظی معنیٰ ہیں—خوبصورتی کے ساتھ چھوڑنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ستانے والوں کے ساتھ حسنِ اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ ان کے معاملہ میں تمہارا طریقہ منفی ردعمل کا طریقہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ مثبت ردعمل کا طریقہ ہونا چاہیے۔ تم کو چاہیے کہ اُن کے معاملہ میں درگزر کرو، اور اُن کے برے انداز کے مقابلہ میں تم اُن کے ساتھ اچھا انداز اختیار کرو۔

مفسرین نے عام طور پر یہ لکھا ہے کہ صبر اور ہجر جمیل کا یہ حکم آیات قتال کے نزول کے بعد منسوخ ہو گیا۔ مگر یہ ایک غلط تفسیر ہے۔ ہجر جمیل ( حسنِ اعراض ) کوئی مجبوری کا فعل نہیں ہے، یہ اہل ایمان کا ایک مثبت رویہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن منفی ردعمل کا تحمل نہیں کر سکتا۔ شکایت کی نفسیات شکر کے جذبہ کی قاتل ہے اس لیے مومن یک طرفہ طور پر شکایت کے جذبات کو ختم کرتا ہے تاکہ اُس کے اندر شکر کا جذبہ مجروح نہ ہونے پائے۔ اسی طرح نفرت کی نفسیات محبت کے جذبہ کی قاتل ہے اس لیے مومن نفرت کی نفسیات کو اپنے اندر پنپنے نہیں دیتا تا کہ اُس کے اندر محبت الہی کا جذبہ پوری طرح باقی رہے۔ اس کام کو کبھی سختی سے کرنا پڑتا ہے اور کبھی حسن تدبیر سے۔ ہجر جمیل (حسن اعراض) بظاہر دوسرے کے مقابلہ میں ہوتا ہے مگر اُس کا تعلق خود اپنی ذات سے ہے۔ مومن آخری حد تک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے اندر اعلیٰ اسلامی احساس ہمیشہ زندہ رہے۔ کسی بھی حال میں اُس کے اندر کی (erosion) نہ ہونے پائے۔

قرآن کے مطابق، اللہ نے کسی انسان کے اندر دو دل نہیں بنائے۔ (الاحزاب: 4) یعنی انسان کے دل میں بیک وقت دو متضاد نفسیات پرورش نہیں پا سکتیں۔ جو دل انسان سے نفرت کرے،

‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues

Printed page